Be always positive
الرسالہ، مئی ۲۰۰۳
میں اپنے آپ باہمی لڑائی جھگڑے کی نفسیات ختم ہوتی رہتی ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو اپنا دوست سمجھنے لگتے ہیں، نہ کہ اپنا دشمن۔ ظاہر ہے کہ ایسے ماحول میں امن کو فروغ ملے گا، نہ کہ تشدد کو۔ احمد آباد میں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک دینی جماعت سے وابستہ تھے۔ ان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ گجرات کے فساد کے دوسرے پہلوؤں پر بہت بولا اور لکھا گیا ہے۔ مگر اس کا جواہم ترین پہلو ہے اس پر ابھی تک نہ کوئی کچھ بولا اور نہ کسی نے کچھ لکھا۔ پھر میں نے کہا کہ گجرات ملک کی وہ ریاست ہے جس کے بارے میں برسوں سے کہا جاتا رہا ہے کہ یہاں دینی محنت کرنے والوں نے دین کی ہوائیں چلا دی ہیں۔ یہاں کی مسجدیں اور مدرسے خوب آباد ہیں۔ یہاں مختلف قسم کی اسلامی سرگرمیاں بڑے پیمانے پر جاری ہیں۔ مزید یہ کہ یہاں کے مسلمانوں نے معاشی اعتبار سے کافی ترقی کی ہے، مثال کے طور پر ہوٹل کی انڈسٹری میں۔ مگر ان سب کے باوجود گجرات میں ملک کا سب سے زیادہ بھیانک فساد ہوا۔ یہ بات بہت زیادہ سوچنے کی ہے کہ دینی سرگرمیوں کے باوجود ایسا کیوں ہوا۔
میں نے اس سوال پر کافی غور کیا ہے۔ میرے نزدیک اس کا سبب یہ ہے کہ ”دینی محنت“ کے ساتھ ”شعوری محنت درکار ہے جو گجرات میں نہیں کی گئی۔ یہاں یہ ہوا کہ کچھ لوگ بزرگوں سے برکت لے کر اپنے کاروبار کو ترقی دینے لگے۔ کچھ لوگوں نے مسجد اور مدرسے کی شاندار عمارتیں بنانے کو کام سمجھا۔ کچھ لوگوں نے نقل و حرکت کو سب سے بڑا دینی کام سمجھ لیا۔ کچھ لوگوں نے مختلف نام سے اسلامی ادارے بنا کر یہ سمجھا کہ انہوں نے اسلام کا جھنڈا گاڑ دیا ہے، وغیرہ۔
اس طرح گجرات کے مسلمان گجرات میں اپنا ایک دینی جزیرہ بنا کر اس کے اندر رہنے لگے۔ بطور خود انہوں نے سمجھ لیا کہ وہ ایک محفوظ ملی قلعہ میں جی رہے ہیں۔ انہیں اس بات کی خبر نہ تھی کہ ان کے سوا جو اکثریتی فرقہ گجرات میں آباد ہے اس کی سوچ کیا ہے۔ ان لوگوں کے اندر کس قسم کے خیالات پرورش پا رہے ہیں۔ اس بے خبری کا ایک نتیجہ وہ ہے جو ۲۸ فروری ۲۰۰۲ میں شروع ہونے والے فسادات کی صورت میں مسلمانوں کو ملا۔