Al-Risala · May 2003 · page

Be always positive

الرسالہ، مئی ۲۰۰۳

اصل یہ ہے کہ ایک ہزار سال پہلے محمود غزنوی نے باہر سے آکر سومنات پر حملہ کیا۔ اس نے کئی حملے کئے اور یہاں کے مندر کو توڑا اور اس کو لوٹا۔ یہ مندر ہزار سال تک کھنڈر کی صورت میں غزنوی حملہ کی یاد دلاتا رہا۔ یہاں تک کہ آزادی کے بعد نہرو گورنمنٹ نے وہاں از سرِ نو مندر کی تعمیر کی۔ دوسری غلطی یہ ہوئی کہ میرے علم کے مطابق ، کسی بھی قابلِ ذکر مسلمان نے محمود غزنوی کے اس سراسر غیر اسلامی واقعہ کی مذمت نہیں کی۔

اسی کے ساتھ ملی تشخص کے انتہا پسندانہ مزاج کی بنا پر مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے درمیان اختلاط (interaction) بھی عملاً نہ ہو سکا جو غلط فہمیوں کو دور کرنے کا ذریعہ بن سکتا تھا۔ اس درمیان میں پاکستان نے اپنے میزائل کا نام غزنوی رکھ کر ایک بم کا کام کیا۔ یہ ساری ناموافق صورت حال مسلسل طور پر پرورش پاتی رہی۔ مگر مسلمانوں کے عوام و خواص اپنی بے شعوری کی بنا پر اس سے بے خبر رہے۔

اسی ناموافق صورت حال کا پہلا اظہار ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو ہوا جب اجودھیا کی بابری مسجد ڈھائی گئی۔ اس واقعہ میں شامل ہونے والے ہندو نوجوانوں کی بیشتر تعداد گجرات کے سیوکوں کی تھی۔ اس واقعہ پر مسلمانوں کو چوکس ہو جانا چاہیے تھا مگر انہوں نے صرف برا بھلا کہنے کو کافی سمجھا۔ کسی بھی قابلِ ذکر مسلمان نے حالات کا گہرا تجزیہ کر کے مسلمانوں کو رہنمائی دینے کی کوشش نہ کی۔ ہندوؤں میں یہ لاوا مسلسل طور پر پکتا رہا اور گجرات یا غیر گجرات کے کسی بھی مسلمان کو اپنے غیر حقیقت پسندانہ ذہن کی بنا پر اس کی خبر نہ ہوسکی۔ یہی لاوہ ہے جو گجرات کے فساد (فروری ۔ مارچ ۲۰۰۲) کی صورت میں پھٹا۔

اب یہاں کے مسلمانوں کے لیے واحد راستہ یہ ہے کہ وہ اپنے اوپر نظر ثانی کریں۔ مسلم خواص کو چاہئے کہ وہ مسلمانوں کے اندر بڑے پیمانہ پر شعوری بیداری کی مہم چلائیں۔ وہ ہندوؤں سے معتدل تعلقات قائم کریں۔ وہ یہاں صرف لینے والے گروہ (taker group) بن کر نہ رہیں بلکہ دینے والے گروہ (giver group) بن کر رہنے کی کوشش کریں۔ وہ غزنوی حملہ یا غزنوی میزائل

‹ Previous page Next page › Contents of May 2003 All issues

Printed page