Al-Risala · May 2003 · page

Be always positive

الرسالہ، مئی ۲۰۰۳

جیسے واقعات کی کھلی مذمت کریں۔ وہ اپنی اس سوچ کو ختم کریں کہ فلاں سیکولر ہندو ہے اور فلاں متعصب ہندو ہے۔ یا فلاں پارٹی مسلم دشمن ہے اور فلاں پارٹی مسلم دوست ہے۔ وہ ہر ایک کو انسان کی نظر سے دیکھیں۔ وہ ہر ایک کے ساتھ یکساں طور پر اختلاط (interaction) کریں۔ وہ منافقانہ طور پر نہیں بلکہ مخلصانہ طور پر برادران وطن کے ساتھ خوشگوار تعلقات بنائیں ۔ یہی مسئلہ کا واحد حل ہے۔ دوسری کوئی بھی تدبیر اس مسئلہ کو ختم نہیں کر سکتی۔

ایک صاحب نے پاکستان کا ایک ماہنامہ دکھایا۔ اس میں لکھا ہوا تھا کہ ۔ یہود اور ہنود اسلام کے ازلی دشمن ہیں۔ اسی پرچے میں علامہ اقبال کی بہت زیادہ تعریف کی گئی تھی۔ میں نے کہا کہ جو لوگ ایسا کہتے ہیں اُن سے پوچھنا چاہئے کہ آپ کے محبوب شاعر نے کہا ہے کہ :

وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود اب سوال یہ ہے کہ اگر ہنود اور یہود اسلام کے دشمن ہیں تو اقبال کے مذکورہ بیان کے مطابق، مسلمان کو کس خانہ میں رکھا جائے گا۔

ایک صاحب نے ایکتا کارواں (جنوری ۲۰۰۳) کا ذکر کیا۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ ایکتا کارواں کے جلسہ میں شریک ہوئے تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہاں۔ میں نے پوچھا کہ وہاں کیا باتیں کہی گئیں۔ اُنہوں نے ایک مقرر کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اُنہوں نے کہا کہ ہندوستان کے مسلمان مایوس نہ ہوں۔ انڈیا میں اب بھی ایسے ہندو ہیں جو سیکولر ہیں، جو گاندھیائی ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ کوئی بات نہیں جس کو کہنے کے لیے آل انڈیا ایکتا کارواں کا اہتمام کیا جائے ۔ میں نے کہا کہ شخصیتوں کے اوپر زندگی کی تعمیر نہیں ہوتی۔ شخصیتیں آج ہیں اور کل نہیں۔ جیسا کہ گاندھی اور نہرو پہلے تھے مگر آج وہ نہیں ہیں۔ مسلمانوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ تم خود اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کرو کہ تم خود اپنی صلاحیت کے بل پر کھڑے ہو سکو۔ تم خود اپنی صلاحیت کے بل پر اپنی جگہ بناؤ۔ تم اپنی اعلیٰ کارکردگی کے ذریعہ ملک کی ضرورت بن جاؤ اور پھر ہر مسئلہ اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2003 All issues

Printed page