Don't preach, just teach.
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۳
بڑی تعداد میں لوگ خصوصی نشستوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اس پلیٹ فارم میں ذرا بھی جنبش نہیں تھی۔ معلوم ہوا کہ ماہر تیراکوں کی مدد سے گنگا کی تہہ میں بڑے بڑے پتھر جمائے گئے ہیں۔ ان پتھروں کے اوپر بہت سے کھمبوں کو جمایا گیا اور پھر اس کے اوپر خصوصی تکنیک کے ذریعہ مسطح منچ سجایا گیا تھا۔ اب تک لوگ گنگا کے ساحل پر گنگا کی پوجا کیا کرتے تھے۔ یہاں جدید تکنیک کو استعمال کر کے ایسا منچ بنایا گیا جس کے نیچے گنگا موجیں مارتی ہوئی بہہ رہی تھی اور اس کے اوپر گنگا پوجا کے پروگرام پر سکون طور پر جاری تھے۔
شام کے پروگرام کے درمیان مغرب کی نماز کا وقت آگیا۔ منچ کے ایک حصہ میں کچھ جگہ خالی تھی۔ یہاں کھڑے ہو کر میں نے مغرب کی نماز پڑھی۔ لوگوں کے بیان کے مطابق، وہاں موجود کیمرہ مین نے میری نماز کا فوٹو بھی لے لیا۔ میرے لئے یہ ایک بڑا عجیب تجربہ تھا۔ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ جس منچ کے اوپر لوگ گنگا کی پرستش کے لئے اکٹھا ہوئے تھے۔ وہاں میں نے لوگوں کے درمیان کھڑے ہو کر خالق گنگا کی عبادت اور پرستش کا فریضہ انجام دیا۔
شام کے اس پروگرام میں اترانچل کے چیف منسٹر نارائن دت تیواری آکر شریک ہوئے۔ وہ ڈیڑھ گھنٹہ لیٹ آئے۔ ایک دلچسپ بات یہ ہوئی کہ شام کے اس فنکشن میں ۷ بجے گنگا آرتی کا پروگرام تھا جس کو چیف منسٹر انجام دینے والے تھے۔ مگر چیف منسٹر کے لیٹ آنے کی وجہ سے گنگا آرتی کا یہ پروگرام دیر سے ہوا۔ ایک تعلیم یافتہ ہندو نے کہا کہ اس زمانہ میں چیف منسٹر کا درجہ بھگوان سے بھی زیادہ بڑا ہے۔
نارائن دت تیواری نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے تقریر کی۔ میں نے پہلی بار ان کی تقریر سنی۔ وہ اگر چہ ایک تجربہ کار سیاست داں سمجھے جاتے ہیں۔ مگر جہاں تک تقریر کا تعلق ہے، وہ مجھے کوئی اچھے مقرر نظر نہیں آئے۔ انہوں نے اپنی تقریر کے آغاز میں کہا کہ میں یہاں مکھیہ منتری کے روپ میں نہیں آیا ہوں بلکہ میں یہاں مکھیہ سیوک کے روپ میں آیا ہوں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں گنگا کے پانی کی صفائی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہری دوار سے لے کر گنگوتری تک گنگا کی صفائی کے لئے جو بھی
‹ Previous page Next page › Contents of January 2003 All issues