Al-Risala · May 2003 · page

خوب شد اسباب خود بینی شکست

الرسالہ، مئی ۲۰۰۳

طور پر اس بڑے کو پا کر اُس کا پرستار بننا چاہتا ہے۔ اب جو لوگ نہ دکھائی دینے والے خدا کو اپنا خدا نہیں بنا پاتے وہ کسی نہ کسی دکھائی دینے والی چیز کو اپنا خدا بنا لیتے ہیں۔ قدیم زمانہ میں انسان سورج اور چاند جیسی نمایاں چیزوں کو خدا مان کر اُس کی پرستش کرتا رہا۔ موجودہ سائنسی زمانہ میں یہ بات ثابت ہوگئی کہ اس قسم کے فطری مظاہر محض مخلوق ہیں، وہ اپنے اندر خدائی صفات نہیں رکھتے۔ اس دریافت کے بعد مظاہر فطرت کی پرستش کا دور ختم ہوگیا۔ مگر جلد ہی انسان نے انسان پرستی (Humanism) کا نظریہ وضع کر لیا۔ حالانکہ یہ ایک بے معنی بات ہے۔ یہ گویا عابد کو معبود بنانا ہے یا اپنے آپ کو خدا کا درجہ دینا ہے۔ عملی طور پر ایسا ہونا ممکن نہیں۔

خدا انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ ایک برتر خدا (supreme God)

انسانی فطرت کا لازمی تقاضا ہے۔ ایک ایسا خدا جس میں تخلیق کے واقعہ کی توجیہہ ملتی ہو۔ جس کو انسان اپنا قیوم(sustainer) سمجھ سکے۔ جو اُس کے لیے مشکل وقتوں میں کرائس مینجمنٹ (crisis management) کا ذریعہ ہو۔ جو انعام دینے اور سزا دینے کا اختیار رکھتا ہو۔ جو ہر اعتبار سے انسان کی اپنی ذات سے بلند ہو۔ اس قسم کی سپریم ہستی صرف خدا کی ہوسکتی ہے۔ ایک انسان کے لیے دوسرا انسان سپریم نہیں بن سکتا۔ اس لیے ہیومنزم کو مذہب کا بدل بنانا ممکن نہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ میں آپ کی تحریروں کا فین(fan) ہوں۔ میں نے کہا کہ میرا تجربہ ہے کہ اکثر لوگ اس قسم کے الفاظ بولتے ہیں مگر یہ صرف کہنے کی ایک بات ہوتی ہے۔ حقیقت میں وہ فین کسی اور چیز کے ہوتے ہیں۔ میں نے کہا کہ دہلی میں ایک تعلیم یافتہ مسلم خاتون ملنے کے لیے ہمارے دفتر میں آئیں۔ ان کے بھائی نے ٹیلی فون پر بتایا تھا کہ وہ آپ کی تحریروں کی فین ہیں۔ وہ ہمارے دفتر میں بیٹھی ہوئی تھیں اور ان سے خدا اور آخرت کی بات ہورہی تھی۔ اچانک ان کے موبائل ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ انہوں نے موبائل اپنے کان سے لگایا اور کہا: ’’اچھا بیٹا، میں آرہی ہوں‘‘۔ اس کے بعد وہ فوراً اٹھ گئیں اور میری بات مکمل ہونے سے پہلے اپنے بیٹے سے ملنے کے لیے روانہ ہوگئیں جو دہلی میں کسی مقام پر ان کا انتظار کر رہے تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2003 All issues

Printed page