Al-Risala · May 2003 · page

کتنا غلط یہ حرف بھی مشہور ہو گیا

الرسالہ، مئی ۲۰۰۳

میرے تجربے کے مطابق، تقریباً ہر مرد اور عورت کا یہی حال ہے۔ ہر ایک اپنے مادی انٹرسٹ کافین ہے اور فرضی طور پر کہتا ہے کہ میں سچائی کا فین ہوں۔

میں بچپن سے یہ سنتا اور پڑھتا رہا ہوں کہ ماں محبت کی علامت ہے۔ یہ بات ساری دنیا کے لٹریچر میں ہزاروں سال سے دہرائی جاتی رہی ہے۔ مگر یہ سراسر بے بنیاد ہے۔ بہت بعد کو میں نے یہ دریافت کیا کہ ماں بیٹا پرستی کی علامت ہے، نہ کہ محبت کی علامت۔ جب مجھے یہ دریافت ہوئی تو میری زبان سے نکلا:

کتنا غلط یہ حرف بھی مشہور ہو گیا

دہلی میں ایک تعلیم یافتہ مسلمان ہیں۔ وہ بی بی سی لندن میںکرسپانڈنٹ ہیں۔ ان کا نام اگرچہ مسلمان جیسا ہے مگر وہ کھلے طور پر کہتے ہیں کہ میں خدا، مذہب، قرآن کسی چیز کو نہیں مانتا۔ ایک بار انہوں نے گفتگو کے دوران کہا کہ آپ تو ایک مذہبی انسان ہیں۔ آپ یقیناً مجھ سے نفرت کرتے ہوں گے۔ میں نے کہا کہ ہر گز نہیں، بلکہ میں آپ کی قدر کرتا ہوں۔ انہوں نے تعجب کے ساتھ کہا کہ وہ کس لیے۔ میں نے کہا کہ آپ میں یہ صفت ہے کہ آپ منافق نہیں ہیں۔ جب کہ آج کی دنیا میں ایک صاحب کے بقول، ایک لاکھ میں 99999 لوگ منافق ہیں۔

انہوں نے ایک ملاقات میں کہا کہ میری شادی ہو چکی ہے مگر ابھی میرے یہاں کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا۔ جب میرے یہاں بچہ پیدا ہوگا تو میں اس کے کان میں مسلم روایت کے مطابق، اذان نہیں دلواؤں گا بلکہ کسی پروفیسر کو بلاؤں گا جو اُس کے کان میں یہ کہے گا— ڈیموکریسی، ڈیموکریسی، ڈیموکریسی۔

گجرات کے ایک ہندو نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ اُس کے ذہن میں عجیب و غریب خیالات بھرے ہوئے تھے۔ اُس نے کہا کہ بھارت کا ہر مسلمان چار شادی کرتا ہے اور اٹھارہ بچے پیدا کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان بھارت کو بھی پاکستان بنانا چاہتے ہیں۔ اُس نے کہا کہ مسلمان اتنے زیادہ پرو پاکستانی ہیں کہ انہوں نے اپنی آبادی کے بیچ میں ہیلی پیڈ بنا لیا تاکہ وہاں پاکستان کا ہیلی کا پٹر اتر سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2003 All issues

Printed page