کتنا غلط یہ حرف بھی مشہور ہو گیا
الرسالہ، مئی ۲۰۰۳
اُس کی اس طرح کی باتوں کو سن کر مجھے ہنسی آگئی۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ کسی ایسے مسلمان کا پتا بتا سکتے ہیں جس کے یہاں چار بیویاں اور اٹھارہ بچے ہوں۔ اُس نے کہا کہ اُسامہ بن لادن کو دیکھئے۔ میں نے کہا کہ اُسامہ بن لادن کی بات ہم بعد کو کریں گے۔ ابھی تو آپ یہ بتائیے کہ بھارت کا کون سا مسلمان ہے جس کے گھر میں چار بیویاں اور اٹھارہ بچے ہوں۔ وہ اس کا کوئی جواب نہ دے سکا۔ پھر میں نے پوچھا کہ وہ کون سا مسلم محلہ ہے جہاں مسلمانوں نے اپنا ہیلی پیڈ بنا رکھا ہے۔ ابھی ہم اور آپ چل کر وہاں اُس کو دیکھیں گے۔ مگر اس کا بھی اُس کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ پھر میں نے کہا کہ اس طرح کی افواہی باتوں سے آپ کسی دوسرے کا نقصان نہیں کر رہے ہیں بلکہ خود اپنا نقصان کر رہے ہیں۔ اس دنیا میں ترقی کرنے کے لیے سائنٹفک ذہن چاہئے۔ افواہی ذہن کبھی کوئی ترقی نہیں کر سکتا۔
ایک ہندو لیڈر کی تقریر سنی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا۔ گاندھی ہمارے دور کا ماؤنٹ ایورسٹ تھا۔ اُس نے وقت کی سب سے بڑی طاقت کو للکارا۔ اس نے ہر چھوٹے آدمی کو اتنی ہمت دی کہ وہ انگریزی ایمپائر کے مقابلہ میں کھڑا ہو گیا۔ اُس نے مٹی سے انسان بنا دیا: He made man out of clay. اپنی شخصیتوں کی مبالغہ آمیز قصیدہ خوانی کا یہ طریقہ مسلمانوں میں بھی اسی طرح رائج ہے۔ ہر گروہ بڑھ چڑھ کر اپنی شخصیتوں کی پُر عظمت تصویر دکھا رہا ہے۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ اگر ہمارے یہاں اتنی بڑی بڑی شخصیتیں پیدا ہوئیں تو جو لوگ اُن کے اثر میں آئے وہ بڑے کیوں نہ بن سکے۔ پچھلے سو برس میں برصغیر ہند میں، لوگوں کے بیان کے مطابق، ہمالیائی شخصیتیں پیدا ہوئیں مگر ملک اور قوم کو ہمالیائی مقام حاصل نہ ہو سکا۔
مسٹر آمیت مکھر جی احمد آباد کے انگریزی اور گجراتی اخباروں میں لکھتے رہتے ہیں۔ انہوں نے تفصیلی انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ مسلمان بھی اُسی طرح مین اسٹریم میں ہیں جس طرح ہندو مین اسٹریم میں ہیں۔ اس اعتبار سے دونوں گروہوں میں کوئی فرق نہیں۔ مسلمان