کتنا غلط یہ حرف بھی مشہور ہو گیا
الرسالہ، مئی ۲۰۰۳
کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ اُن کے ناعاقبت اندیش رہنماؤں نے اُنہیں جذباتی بنا دیا۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ اُن کی جذباتیت کو ختم کیا جائے۔ ایک اور سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ آزادی سے پہلے زرعی دور میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان روزانہ انٹرایکشن ہوتا تھا مگر اب صنعتی دور میں یہ انٹرایکشن بہت کم ہو گیا۔ اس کمی کو دور کرنے کی صرف ایک صورت ہے اور وہ یہ کہ مسلمانوں میں تعلیم کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جائے۔
ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ہندوستان میں بدقسمتی سے دانش مند رہنما پیدا نہیں ہوئے ۔ یہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ ہے، نہ کہ وہ مفروضہ مسائل جن کا مسلمانوں کے درمیان اکثر چرچا ہوتا رہتا ہے۔ مثلاً بار بار یہ ہوا کہ کوئی ایسا واقعہ پیش آیا جس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے۔ اب نا اہل لیڈروں نے اُس کو لے کر یہ مانگ شروع کر دی کہ ایسا واقعہ نہ کرو جس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ اس کے بعد جلسوں اور تقریروں کا طوفان شروع ہو گیا۔ حالانکہ صحیح رہنمائی یہ تھی کہ وہ کہتے کہ جذبات کا مجروح ہونا بجائے خود ایک قابلِ اصلاح چیز ہے۔ موجودہ دنیا آزادی اور مسابقت کی دنیا ہے۔ یہاں تو جذبات بار بار مجروح ہوں گے۔
ایسی حالت میں کرنے کا کام ایجی ٹیشن نہیں ہے، بلکہ ایوائیڈنس ہے۔ اگر مسلمانوں کے اندر یہ سوچ پیدا کی گئی ہوتی کہ زندگی میں بہت سی ایسی چیزیں ہوتی ہیں جن کا حل صرف یہ ہے کہ اُن کو ایوائڈ کیا جائے یا نظر انداز کر دیا جائے۔ اگر مسلمانوں میں یہ مزاج بنایا جاتا تو مسلمان اُن بے شمار نقصانات سے بچ جاتے جو صرف اس لیے پیش آئے کہ مسلمانوں نے غلط رہنمائی کے نتیجہ میں غیر ضروری ردِعمل کا طریقہ اختیار کیا اور پھر اُنہیں اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔ محمد حسن جوہر صاحب کے گھر پر کچھ تعلیم یافتہ ہندوؤں سے ملاقات ہوئی۔ مسٹر چونی اور مسٹر ویدیا، وغیرہ۔ اُن کا ایک سوال یہ تھا کہ خدا کا تصور اسلام میں کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اسلام میں ادویت واد کا تصور نہیں ہے۔ بلکہ اسلام میں دویت واد کا تصور ہے، یعنی خالق اور مخلوق دونوں ایک