کتنا غلط یہ حرف بھی مشہور ہو گیا
الرسالہ، مئی ۲۰۰۳
نہیں ہیں بلکہ دونوں ایک دوسرے سے مکمل طور پر الگ ہیں۔ اس سلسلہ میں میں نے توحید کے عقیدہ کی کچھ تفصیل بیان کی۔
ان کا ایک سوال یہ تھا کہ آپ لوگ قرآن کو آخری کتاب مانتے ہیں جو کہ چودہ سو سال پہلے اتاری گئی۔ انسان کے حالات تو بار بار بدلتے رہتے ہیں۔ پھر بدلے ہوئے حالات میں دوسری کتاب کیوں ضروری نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس عقیدہ سے تو ذہنی ارتقاء رک جاتا ہے جبکہ ہندوازم میں ایسا عقیدہ نہ ہونے کی وجہ سے ذہنی ارتقاء جاری رہتا ہے۔
میں نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ ہم قرآن کو آخری کتاب مانتے ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ اسلام کی ایک اہم تعلیم وہ ہے جس کو اجتہاد کہا جاتا ہے۔ اجتہاد کا مطلب یہ ہے کہ بدلے ہوئے حالات میں اسلام کی ابدی تعلیمات کا از سر نو انطباق (re-application) دریافت کیا جائے۔ اس طرح اجتہاد کا اصول اسلام کی ابدیت کو مسلسل باقی رکھتا ہے۔
مسٹر باتک وورا (Battuk Vora) ایک فری لانس رائٹر ہیں۔ اُن کی تحریری زبان انگریزی ہے۔ وہ احمد آباد میں رہتے ہیں۔ ان کا ٹیلی فون نمبر یہ ہے (6762884 .Tel) ان کا ایک سوال یہ تھا کہ دار الاسلام اور دار الكفر اور دار الحرب کا مطلب کیا ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے دار کی اس تقسیم سے اتفاق نہیں۔ یہ اصطلاحیں عباسی دور میں بنیں۔ رسول اور اصحاب رسول کے زمانہ میں یہ اصطلاحیں موجود نہ تھیں۔ قرآن و حدیث میں یہ الفاظ استعمال نہیں ہوئے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ اصطلاحات بنانے میں قرآن و حدیث کا اتباع کیا جائے۔
دار الحرب کی اصطلاح غالباً و قاتلوهم حتى لا تكون فتنة سے بنی ہے۔ اس قرآنی آیت سے یہ اخذ کیا گیا کہ جس مقام پر فتنہ ہو وہ مقام اپنے آپ دار القتال یا دار الحرب بن جاتا ہے۔ اگر دار الحرب کے نظریہ کا ماخذ یہی ہو تب بھی آج کوئی ملک دار الحرب نہیں۔ کیوں کہ اب کوئی ملک دار الفتنہ نہیں۔ فتنہ سے مراد مذہبی ایذارسانی (religious persecution) ہے۔ اور اب جب کہ مذہبی آزادی کو با قاعدہ طور پر ساری دنیا میں تسلیم کر لیا گیا ہے، اب مذہبی ایذارسانی