کتنا غلط یہ حرف بھی مشہور ہو گیا
الرسالہ، مئی ۲۰۰۳
کا کوئی سوال نہیں۔ واضح ہو کہ مسلمانوں کے اپنے کسی بے جا اقدام سے اُن کے خلاف کوئی مسئلہ پیدا ہو تو وہ مذہبی ایذارسانی نہیں کہا جائے گا۔ مذہبی ایذارسانی کا عمل وہ ہے جو خود قائم شدہ نظام کے اپنے معیار کے تحت بلا اشتعال عائد کیا جائے۔
میرے نزدیک آج کوئی بھی ملک نہ دارالکفر ہے، نہ دارالحرب اور نہ دارالفتنہ۔ موجودہ زمانہ میں ہر ملک کی حیثیت دارالدعوہ کی ہے۔ حتیٰ کہ آج کوئی ملک دارالاسلام بھی نہیں۔ آج ہر ملک دارالدعوہ ہے۔ اور کسی مسلم ملک کی حیثیت صرف دارالمسلمین کی ہے، نہ کہ دارالاسلام کی۔ کچھ مسلمانوں نے گجرات کے ہندوؤں کے بارے میں شکایت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہاں ہمیشہ سے تعصب اور مسلم دشمنی کا ماحول پایا گیا ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے اس رائے سے اتفاق نہیں۔ لیکن اگر بالفرض یہ رائے درست ہو تب بھی اس کا حل شکایت اور احتجاج نہیں ہے بلکہ قرآن کے مطابق ، اُس کا حل یہ ہے کہ بہتر سلوک کے ذریعہ عداوت کو دوستی میں تبدیل کیا جائے (فصلت ۳۴)۔
میں نے کہا کہ اب آپ میرا تجربہ سنیے۔ عرصہ ہوا الرسالہ میں میرا ایک مضمون چھپا جس کا عنوان تھا: حسنین، تاریخ کے دو علامتی کردار۔ یہ مضمون میری کتاب ’’ظہور اسلام‘‘ میں شامل ہے۔ اس مضمون کو پڑھنے کے بعد احمد آباد کے ایک ڈاکٹر صاحب نے مجھے غصہ سے بھرا ہوا ایک خط بھیجا۔ اس میں انہوں نے مذکورہ مضمون کے بارہ میں اپنی سخت ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ اب آپ نے نواسۂ رسول پر بھی قلم اٹھانا شروع کر دیا۔ میں نے اپنے جواب میں انہیں لکھا کہ میں نے اپنے مضمون میں اس کے سوا اور کچھ نہیں کیا ہے کہ حسین کے مقابلہ میں حسن کے کردار کو نمایاں کیا ہے، اور وہ بھی بہر حال نواسۂ رسول تھے۔
میں نے اپنے مذکورہ مضمون میں امام حسن کے کردار کی روشنی میں صُلح اور امن کی اہمیت بتائی تھی۔ مگر بدقسمتی سے احمد آباد کے مسلمانوں کے لیے یہ مشورہ قابلِ قبول نہ ہوسکا۔ اس کے بعد پچھلے چند سالوں کے اندر احمد آباد کے کچھ باشعور مسلمانوں نے احمد آباد میں دو بار میری تقریر کا