کتنا غلط یہ حرف بھی مشہور ہو گیا
الرسالہ، مئی ۲۰۰۳
پروگرام رکھا اور اس کے انتظامات کیے۔ مگر کچھ پرجوش مسلمانوں نے دونوں بار میرے پروگرام کو منسوخ کرا دیا۔ اُن کی دلیل یہ تھی کہ وہ آئیں گے تو وہ صبر کا فارمولا پیش کریں گے، اور ہمیں اپنے حالات میں صبر کا فارمولا منظور نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایسی حالت میں آپ لوگوں کے لیے شکایت غیر سے زیادہ احتساب خویش کی ضرورت ہے۔
آپ کو معلوم ہو گا کہ وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے ۲۸ جنوری ۲۰۰۳ کو احمد آباد میں تقریر کرتے ہوئے پر فخر طور پر کہا تھا کہ بھارتیہ ریلیں بھارتیہ ریکھا ہیں۔ مگر اسی ریلوے لائن کے بارہ میں ۱۸۷۲ سے پہلے جواہر لال نہرو نے لکھا تھا کہ یہ ریلوے لائن جو انگریزوں نے ہمارے ملک میں بچھائی ہے وہ دراصل لوہے کی زنجیریں ہیں جس میں وہ ہم کو جکڑ لینا چاہتے ہیں۔ یہ ایک دلچسپ مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دشمن کا فعل بھی نتیجہ کے اعتبار سے فائدہ کا سبب بن سکتا ہے۔ لوگ عام طور پر انسانوں کو دشمن گروہ اور دوست گروہ میں بانٹتے رہتے ہیں۔ وہ دشمن کو ہر حال میں دشمن اور دوست کو ہر حال میں دوست سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اس طرح کی تقسیم سراسر اضافی ہے۔ اس دنیا میں ہر چیز کے متعدد پہلو ہوتے ہیں۔ ایک چیز کسی ایک پہلو سے غیر مفید دکھائی دے سکتی ہے مگر وہی چیز کسی اور پہلو سے عین مفید ہوگی۔ اس لیے آدمی کو رائے قائم کرنے میں کبھی جانب دارانہ انداز اختیار نہیں کرنا چاہئے۔
۱۸۷۲ سے پہلے انڈیا میں جب انگریزوں نے انگریزی زبان کو پھیلا یا اور انگریزی تعلیم کو رواج دیا تو ہمارے تمام قائدین اور مصلحین اُس کے خلاف ہو گئے۔ مگر آج یہی انگریزی زبان ہے جو انڈیا کی ترقی میں سب سے بڑا کردار ادا کر رہی ہے۔ دنیا میں امریکہ اور برطانیہ کے بعد انڈیا انگریزی زبان کے اعتبار سے سب سے زیادہ بڑا ملک ہے۔
یہ واقعہ کمپیوٹر ایج میں انڈیا کے لیے زبردست ایڈوانٹج بن رہا ہے۔ انڈیا میں اگر صرف اردو یا صرف ہندی کا رواج ہوتا تو آج یقینی طور پر سائنسی اور اقتصادی اعتبار سے انڈیا ایک پچھڑا ہوا ملک ہوتا۔