خدا شرّے برانگیزد کہ خیر مادر اں باشد
الرسالہ، مئی ۲۰۰۳
یہی معاملہ گجرات کے حادثہ (مارچ ۲۰۰۲) کا ہے۔ یہ بلاشبہ ایک خوفناک واقعہ تھا۔ اس واقعہ پر ہر لکھنے اور بولنے والے لوگ شکایت اور احتجاج کی زبان بولتے رہے۔ حالاں کہ یہ بھی اسی نوعیت کا ایک شر تھا جس کو ایک فارسی شاعر نے اس طرح بیان کیا ہے:
خدا شرّے برانگیزد کہ خیر مادر اں باشد
یہ ایک واقعہ ہے اور خود آپ اس کے مشاہد ہیں کہ گجرات کے حادثہ نے ہندوستانی مسلمانوں کو جتنا زیادہ جگایا ہے اتنا کسی اور واقعہ نے نہیں جگایا۔ اس کی ایک علامتی مثال یہ ہے کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو اجودھیا میںبابری مسجدڈھائی گئی تو ۱۹۹۳ میں اُس کے جواب میں بمبئی میں کار بم کا دھماکہ کیا گیا۔ مگر ۲۸ فروری ۲۰۰۲ کے بعد گجرات میں جو حادثہ پیش آیا اس کے بعد ہندوستانی مسلمانوں نے پورے ملک میں سد بھاونا شانتی کارواں (۱۰-۱۹ جنوری ۲۰۰۳) نکالا۔ یہ مسلمانوں کی سوچ میں تبدیلی کی ایک کھلی علامت ہے جو بلاشبہ بے حد معنی خیز ہے۔
ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ میں نے اپنی زندگی میں کئی ایسے افراد دیکھے جو بے حد شریف تھے۔ وہ اعلیٰ انسانی اوصاف کے حامل تھے۔ اس کے باوجود وہ سچائی کو نہ پاسکے۔ اس کا سبب میرے تجربہ کے مطابق ، ذہنی انتشار (کنفیوژن) ہے۔ سوال یہ ہے کہ کنفیوژن کسی کو کیوں ہوتا ہے۔ میرے نزدیک اس کا سبب یہ ہے کہ لوگوں کا دماغ زیادہ تر معلومات کا جنگل ہوتا ہے۔ وہ ایسا نہیں کر پاتے کہ تحلیل و تجزیہ (analysis) کرکے مختلف معلومات سے ایک نتیجہ نکال سکیں ۔ وہ متعلق اور غیر متعلق کا فرق سمجھیں ۔ وہ بنیادی اور غیر بنیادی میں تمیز کر سکیں اور پھر مختلف معلومات کو ہضم کر کے صحیح نتیجہ نکالیں۔ اسی ناکامی کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کا معلوماتی ذخیرہ اُن کو صرف کنفیوژن تک پہنچاتا ہے، وہ انہیں فکری پختگی عطا نہیں کرتا۔
اسی قسم کے ایک صاحب کا معاملہ یہ ہے کہ وہ کافی ذہین اور تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود سخت ذہنی انتشار میں مبتلا رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ مسکن (tranquilizer) استعمال کرکے سوتے ہیں۔ ہماری آج کی دنیا میں اس طرح کے لوگوں کی بڑی کثرت ہے۔ اس صورت حال نے کچھ