خدا شرّے برانگیزد کہ خیر مادر اں باشد
الرسالہ، مئی ۲۰۰۳
لوگوں کو موقع دیا ہے کہ وہ ایک نئی تجارت شروع کرسکیں جس کو میں روحانی تجارت (spiritual business) کہتا ہوں۔ یہ لوگ آرٹ آف لیونگ اور میڈیٹیشن جیسے ناموں کے ذریعہ یہ تجارت کر رہے ہیں۔ وہ لوگوں کو یہ فرضی یقین دلاتے ہیں کہ وہ انہیں ذہنی سکون دے سکتے ہیں۔ حالاں کہ یہ استحصال کے سوا اور کچھ نہیں۔
ایک صاحب نے بتایا کہ وہ اس قسم کے ماہرین کے قریب رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ لوگ سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق، عوام کو بے وقوف بناتے ہیں۔ یہ دراصل پروفیشنل لوگ ہیں جو باقاعدہ طور پر اپنے پروفیشن کی مارکیٹنگ کرتے ہیں۔ مثلاً آپ اُن سے ملنے کے لیے جائیں تو عین اُسی وقت اُن کے پاس دور دور سے ’’ٹیلی فون‘‘ آنے لگیں گے۔ کوئی پانڈیچری سے بول رہا ہوگا، کوئی یورپ سے اور کوئی امریکہ سے۔ یہ لوگ باقاعدہ منصوبہ کے تحت گھڑی ہوئی کہانیاں پھیلاتے ہیں اور اس طرح لوگوں کو متاثر کر کے وہ اپنا بزنس چلا رہے ہیں۔
۲۷ جنوری کی صبح کو واپسی تھی۔ ہوٹل آرام سے جناب محمد حسن جوہر صاحب کے ساتھ احمد آباد ایرپورٹ کے لیے روانہ ہوا۔ راستہ میں جوہر صاحب سے مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ کسی بھی مسئلہ میں درست رائے قائم کرنے کے لیے سب سے زیادہ اہمیت سائنٹفک طرزِ فکر کی ہے۔ اکثر لوگ کچھ مفروضات کو لے کر اسلام کے بارہ میں رائے زنی کرنے لگتے ہیں۔ حالاں کہ کوئی بھی رائے حقائق کی بنیاد پر قائم کرنا چاہئے، نہ کہ مفروضات کی بنیاد پر۔
مثلاً کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اسلام چودہ سو سال پہلے کے زمانہ میں آیا۔ اب حالات بدل چکے ہیں۔ بدلے ہوئے حالات میں اسلام کی تعلیمات پر کیسے عمل کیا جاسکتا ہے۔ میں نے ایسے لوگوں سے بار بار یہ پوچھا کہ آپ متعین طور پر بتائیے کہ اسلام کی کون سی تعلیم ہے جو موجودہ زمانہ میں نا قابل عمل ہو چکی ہے۔ مگر وہ اپنے دعویٰ کی کوئی متعین مثال نہ بتا سکے۔ ایک صاحب نے کہا کہ اسلام کے پیغمبر صاحب اونٹ پر سفر کرتے تھے۔ اب موجودہ زمانہ میں بھی کیا آپ اونٹ پر سفر کریں گے۔ میں نے کہا کہ یہ اسلام کی تعلیم ہی نہیں کہ سفر کے لیے اونٹ کی سواری استعمال کی جائے۔ ایک صاحب نے