Al-Risala · January 2003 · page

Don't preach, just teach.

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۳

پروگرام بنایا جائے گا اس میں اترا نچل گورنمنٹ پوری مدد کرے گی۔

شام کے پروگرام کے خاتمہ پر عشاء کی نماز با جماعت ادا کی گئی۔ میں نے اس کی امامت کی۔ جماعت میں کل چھ آدمی شریک تھے۔ ان میں سے دو ہندو (آر۔ (آر۔ملہوترا، پی۔ ملک) تھے۔ اس قسم کی با جماعت نماز بھی شاید پہلی بار رشی کیش میں پڑھی گئی۔ میرے ساتھ کئی بار ایسا ہوا ہے کہ ہندوؤں نے میرے پیچھے جماعت میں شریک ہو کر نماز پڑھی۔

۲ جون کو شام کا کھانا ایک ایسے مقام پر کھایا گیا جو عین گنگا کے کنارے واقع تھا۔ ہم لوگ ایک میز کے چاروں طرف کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ دوسری طرف گنگا ہلکی موسیقی کے ساتھ مسلسل بہتی ہوئی نظر آتی تھی۔ اس کے آگے دوسری طرف ہمالیہ پہاڑ پھیلا ہوا دکھائی دیتا تھا۔ اور اس کے اوپر کھلا آسمان اور پھر خالص ہوا کے خوشگوار جھونکے۔ یہ ایک آفاقی منظر تھا جو فطرت کے ناقابل بیان کائناتی حسن کی یاد دلارہا تھا۔

میں نے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں کو قرآن کی ایک آیت سنائی : یوم تبدل الارض غیر الارض (ابراہیم ۴۸) یعنی جب ارض کو بدل کر غیر ارض کر دیا جائے گا۔ میں نے کہا کہ اس آیت میں تبدیلی سے مراد غالباً وہی چیز ہے جس کو کنورژن (conversion) کہا جاتا ہے۔ کنورژن فطرت کا عالمی اصول ہے۔ یہاں ہر چیز کنورژن کے عمل (process) سے گزر کر ارتقا یافتہ صورت اختیار کرتی ہے۔ مثلاً لوہا (ore) بدل کر ایک با معنی انجن بن جاتا ہے۔ مٹی اور معدنیات بدل کر خوراک کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ اسی طرح ہماری پوری دنیا آخر میں ایک سپر کنورژن (super conversion) کے عمل سے گزرے گی اور پھر وہ زیادہ بہتر اور کامل دنیا وجود میں آئے گی جس کو آخرت کی دنیا کہا گیا ہے۔

مختلف اوقات میں کھانے کی میز پر جن لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں ان میں سے ایک ریٹائرڈ جسٹس گردھر مالوی تھے۔ وہ بنارس ہندو یونیورسٹی کے بانی مدن موہن مالوی کے پوتے ہیں۔ انہوں نے ملاقات کے دوران کئی باتیں بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے دادانے بنارس یونیورسٹی کو ایک قومی

‹ Previous page Next page › Contents of January 2003 All issues

Printed page