Al-Risala · May 2003 · page

خدا شرّے برانگیزد کہ خیر مادر اں باشد

الرسالہ، مئی ۲۰۰۳

کہا کہ آپ لوگوں کا ماننا ہے کہ نجات صرف محمد صاحب کی پیروی میں ہے۔ اب اگر زمین کے علاوہ کسی اور سیارہ (planet) پر انسان آباد ہوں اور وہ عربی کے علاوہ کوئی اور زبان بولتے ہوں تو اُن کی نجات کا اصول کیا ہوگا۔ میں نے کہا کہ ابھی تک ایسا کوئی سیارہ دریافت نہیں ہوا اور اگر بالفرض ایسا کوئی سیارہ ہو تو خدا نے اُن کی زبان میں وہاں پیغمبر بھیجا ہوگا۔

میرا تجربہ ہے کہ لوگ مفروضہ اور حقیقت میں فرق نہیں کرتے۔ وہ نہیں سمجھتے کہ کوئی سوال یا اعتراض حقیقت کی بنیاد پر قائم ہوسکتا ہے، نہ کہ بے اصل مفروضہ کی بنیاد پر۔ ۲۷ جنوری کی صبح کو جب میں احمد آباد ایئر پورٹ پر ہوائی جہاز پر سوار ہو رہا تھا، مجھے یاد آیا کہ ۱۹۷۱ میں احمد آباد ہی سے پہلی بار ہوائی جہاز میں سوار ہوا تھا اور آج میں احمد آباد ہی سے ۱۵۰ ویں بار ہوائی جہاز میں بیٹھ رہا ہوں۔

پھر مجھے ایک سال پہلے کا واقعہ یاد آیا۔ ایک مسلمان پروفیسر جو اچانک پچھلے ماہ انتقال کر گئے وہ عمر میں مجھ سے کافی چھوٹے تھے۔ کچھ عرصہ پہلے اُن کے بڑے بھائی سے میں نے پروفیسر صاحب کا حال پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ اُن کا کیا۔ اُن کا تو ایک قدم زمین پر رہتا ہے اور ایک قدم ہوائی جہاز پر۔ میں نے سوچا کہ آدمی مستقبل کے بارہ میں کتنا کم جانتا ہے۔ آدمی سمجھتا ہے کہ میرا ایک قدم زمین پر ہے اور دوسرا قدم ہوائی جہاز پر۔ حالاں کہ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہر آدمی کا ایک قدم دنیا میں ہے اور دوسرا قدم آخرت میں۔

اس معاملہ میں کسی کا کوئی استثناء نہیں۔ خواہ وہ یونیورسٹی کا ایک مسلمان پروفیسر ہو یا خلا میں پرواز کرنے والی کلپنا چاولہ جو صرف چالیس سال کی عمر میں اچانک حادثہ کا شکار ہو گئیں جب کہ وہ اپنی منزل سے صرف ۱۶ منٹ دور تھیں۔

حدیث میں آیا ہے کہ اکثروا ذكر هاذم اللذات ، الموت ۔ سب سے بڑی حقیقت جو ہر وقت ہر مرد و عورت کو یاد رکھنا چاہئے وہ موت ہے اور اگر موت آدمی کو یاد رہے تو ساری لذتیں اُس کو بھول جائیں۔ زندگی کا ہر سفر اُس کو موت کا سفر دکھائی دینے لگے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2003 All issues

Printed page