Symbiosis between Science & Spirit
الرسالہ، مئی ۲۰۰۳
واپسی میں جہاز بڑودہ ہوتے ہوئے دہلی آیا۔ جہاز بڑودہ میں ۲۷۰ منٹ کے لیے ٹھہرا۔ یہاں سے کچھ مسافر دہلی جانے کے لیے سوار ہوئے۔ ایک مسافر میرے قریب کی خالی سیٹ پر آ کر بیٹھے۔ اُن سے بڑودہ کے بارہ میں گفتگو ہوئی۔ اُن کی بات سے اندازہ ہوا کہ فساد سے پہلے بڑودہ میں لوگ بہت خوشحال تھے۔ پھر شاید اُن کا حال وہ ہوا جس کی تصویر قرآن کی ایک آیت میں اس طرح دی گئی ہے: اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو اس کے خوش حال لوگوں کو حکم دیتے ہیں، پھر وہ اُس میں نافرمانی کرتے ہیں۔ تب اُن پر بات ثابت ہو جاتی ہے۔ پھر ہم اس بستی کو تباہ کر دیتے ہیں (بنی اسرائیل ١٦)۔ خوش حالی سے سرکشی آتی ہے اور سرکشی سے فساد اور فساد کا نتیجہ تباہی۔ ۲۷ جنوری ۲۰۰۳ کو احمد آباد سے انڈین ایرلائنز کے ذریعہ واپسی ہوئی۔ پرواز کے دوران راستہ میں مختلف اخبارات دیکھے۔ ٹائمْس آف انڈیا (۲۷۷ جنوری) میں ڈاکٹر کرن سنگھ کا ایک مضمون شائع ہوا جس کا عنوان یہ تھا: سائنس اور اسپرٹ کے درمیان معانست:
Symbiosis between Science & Spirit
اس مضمون میں آئنسٹین کا ایک قول نقل کیا گیا تھا۔ اس نے کہا کہ سائنس مذہب کے بغیر لنگڑی ہے اور مذہب سائنس کے بغیر اندھا ہے:
Science without religion is lame, religion without science is blind. میرے نزدیک سائنس کی محدودیت یہ ہے کہ وہ اپنی تحقیق کا دائرہ مادی چیزوں تک محدود رکھتی ہے۔ ایسی حالت میں ایک سائنٹسٹ کو اگر روحانی موضوعات پر رائے قائم کرنا ہو تو اس کو مذہب سے مدد لینا ہوگا۔ اس اعتبار سے مذہب گویا سائنس کی محدودیت کی تکمیل ہے۔ دوسری طرف مذہبی مطالعہ کا دائرہ بھی ایک اعتبار سے محدود ہے۔ مذہب کا مطالعہ بنیادی طور پر غیر مرئی دنیا (unseen world) سے تعلق رکھتا ہے۔ ایسی حالت میں ایک مذہبی انسان کو اگر مرئی دنیا (seen world) کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنا ہو تو اس کو سائنسی معلومات سے مدد لینا ہوگا۔ اس طرح مذہب اور سائنس دونوں ایک دوسرے کے لیے مددگار (complementary) بن جاتے ہیں۔