Al-Risala · May 2003 · page

Symbiosis between Science & Spirit

الرسالہ، مئی ۲۰۰۳

ائیر پورٹ سے باہر نکلا تو یہاں مسٹر ررجت ملہوترا اپنی گاڑی کے ساتھ موجود تھے۔ انہوں نے مجھے گھر تک پہنچایا۔ راستہ میں اُن سے اسلام اور روحانیت پر باتیں ہوتی رہیں۔ مسٹر جت ملہوترا (۳۰ سال) ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں سروس کرتے ہیں۔ انہوں نے اسلام کا کافی مطالعہ کیا ہے۔ براہ راست مطالعہ سے پہلے وہ اسلام سے نفرت کرتے تھے۔ مگر مطالعہ کے بعد اُن کی غلط فہمیاں دور ہو گئیں۔ اب اُن کے دل میں اسلام کے لیے گہری عقیدت پائی جاتی ہے۔ وہ بہت سی ایسی چیزوں کو چھوڑ چکے ہیں جن کو اسلام میں منع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے سچائی کی تلاش تھی۔ اس سلسلہ میں میں بہت سے مذہبی پیشواؤں سے ملا اور بہت سی کتابیں پڑھیں۔ یہ سلسلہ برسوں تک جاری رہا۔ مگر جب میں نے اسلام کو پڑھا تو میرے دل نے کہا کہ جس سچائی کو میں تلاش کر رہا تھا وہ یہاں موجود ہے۔

احمد آباد کے سفر سے واپسی کے بعد میں نے ایک خط لکھا۔ یہ خط احمد آباد کے جناب محمد حسن جوہر کے نام تھا۔ اس خط میں میں نے جو باتیں لکھی تھیں وہ مسلمانوں کی عمومی حالت پر ایک تبصرہ تھا۔ اس خط کو یہاں نقل کیا جاتا ہے:

برادر محترم محمد حسن جو ہر صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۲ جنوری ۲۰۰۳ کو ٹیلی فون پر آپ سے گفتگو کے بعد یہ خط لکھ رہا ہوں ۔ انڈیا میں ہندو بھاری اکثریت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مسلم رہنما بد قسمتی سے ابھی تک ہندو۔ مسلم تعلقات کے بارے میں کوئی قابل عمل فارمولا دریافت نہ کر سکے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دونوں فرقوں کے درمیان مسلسل تناؤ اور ٹکراؤ کی حالت جاری ہے۔ یہ غیر معتدل صورت حال اقلیت کی ترقی میں ایک مستقل رکاوٹ ہے۔ آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد دونوں دوروں میں مسلم رہنماؤں کی سوچ یہ رہی ہے کہ ہندوؤں میں دو قسم کے لوگ ہیں۔ ان کے الفاظ میں ہندوؤں کا ایک گروہ وہ ہے جو سیکولر اور انسان دوست ہے۔ اور دوسرا گروہ وہ ہے جو کٹر اور اینٹی مسلم ہے۔ مسلم رہنماؤں نے تقریباً سو سال سے یہ پالیسی اختیار کر رکھی ہے کہ سیکولر اور انسان دوست ہندوؤں کو ساتھ لے کر کٹر اور اینٹی مسلم ہندوؤں کا

‹ Previous page Next page › Contents of May 2003 All issues

Printed page