Al-Risala · May 2003 · page

Symbiosis between Science & Spirit

الرسالہ، مئی ۲۰۰۳

مقابلہ کیا جائے۔ مگر سوسال کا ناکام تجربہ بتاتا ہے کہ سوچ عملی اعتبار سے سراسر بے فائدہ تھی۔ ممکن ہے، خالص منطقی تجزیہ (logical analysis) میں یہ بات درست نظر آئے۔ مگر جب اصل مسئلہ جان ومال کو بچانے کا ہو تو منطقی تجزیہ یہ بظاہر درست ہونے کے باوجود نا قابل قبول ہوگا۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ عملی زندگی میں کبھی آئیڈیل نہیں چلتا۔ عملی زندگی کو ہمیشہ پریکٹکل تدبیر کے ذریعہ حل کیا جاتا ہے۔ اور ایسا ہی ہمیں ملی مسائل میں بھی کرنا چاہیے۔

اگر بالفرض مان لیا جائے کہ ہندوؤں میں کچھ پرابلم ہندو ہیں اور کچھ نو پرابلم ہندو۔ تب بھی یہ کوئی کارگر فارمولا نہیں کہ ہندوؤں کے ایک طبقہ کو ہندوؤں کے دوسرے طبقہ کے مقابلہ میں کھڑا کرنے کی کوشش کی جائے۔ اولاً تو ایسا ممکن ہی نہیں اور اگر بالفرض ایسا ممکن ہو جائے تب بھی وہ صرف اصل مسئلہ کو بڑھانے کا سبب ہوگا۔ اس تقسیم کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ مفروضہ نو پرابلم ہندو بقیہ ہندوؤں سے کٹ جائیں گے۔ اور نتیجہ وہ خود ہندوؤں میں غیر مؤثر ہو کر رہ جائیں گے۔

اس معاملہ میں زیادہ درست طریقہ یہ ہے کہ تقسیم و تفریق کے اس ذہن کو ختم کرکے سارے ہندوؤں کو ایک نظر سے دیکھا جائے ۔ اگر بالفرض اس ملک میں ایسے ہندو ہیں جو مسلم دشمن ہیں تب بھی اس مسئلہ کا واحد حل یہ ہے کہ ایسے ہندوؤں کو اپنا دوست بنایا جائے اور ان کو اپنا کر اصل مسئلہ کو حل کیا جائے۔ عقل اور مذہب دونوں کا تقاضہ یہی ہے۔ ارباب دانش مسئلہ کو حل کرنے کے اس طریقہ کو برتر حل (superior solution) کہتے ہیں۔ دوسری ورلڈ وار میں امریکہ نے جاپان کے اوپر تباہ کن بمباری کرکے بدترین دشمنی کا معاملہ کیا تھا مگر جنگ کے بعد جاپان نے امریکہ کی دشمنی کو بھلا کر اس سے دوستی کر لی۔ اس کا شاندار نتیجہ یہ نکلا کہ جاپان نے پہلے سے بھی زیادہ بڑی ترقی حاصل کر لی۔ یہاں تک کہ وہ اقتصادی سپر پاور (economic superpower) بن گیا۔

یہی وہ حسن تدبیر ہے جس کو مسیح نے اپنے مشہور الفاظ میں اس طرح بتایا تھا اپنے دشمن سے محبت رکھو (Love your enemy)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دشمن کو اپنا دوست بنا کر دشمنی کا مسئلہ حل کرو۔ (Solve the problem of enemity by befriending your enemy.)

‹ Previous page Next page › Contents of May 2003 All issues

Printed page