Symbiosis between Science & Spirit
الرسالہ، مئی ۲۰۰۳
اس طرح کے مسئلہ کا یہی وہ برتر حل ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اور اس سے بہتر کس کی بات ہوگی جس نے خدا کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا (حم السجدہ ۳۳۔ ۳۴) اس معاملہ میں فیصلہ کن بات یہ ہے کہ ہر شخص فطرت صحیح پر پیدا ہوتا ہے۔ ہر آدمی کے اندر ضمیر (conscience) ہے۔ ہر آدمی اسی طرح ایک انسان ہے جس طرح میں یا آپ ایک انسان ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دشمنی ہمیشہ صرف ایک اوپری چیز ہوتی ہے، وہ انسان کی گہری شخصیت کا حصہ نہیں ہوتی۔ یہ اوپری دشمنی صرف اس وقت تک زندہ رہتی ہے جب کہ فریق ثانی اپنے منفی ردعمل (negative reaction) سے اس کو غذا دیتا رہے۔ اگر فریق ثانی اپنے آپ کو منفی ردعمل سے بچائے اور مثبت سلوک (positive behaviour) کا طریقہ اختیار کرے تو یقینی طور پر مفروضہ دشمن کا دشمنانہ رویہ ختم ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں دشمنی ہمیشہ جوابی دشمنی کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے۔ اگر فریق ثانی اپنے آپ کو جوابی دشمنی سے بچائے اور جوابی دوستی کا طریقہ اختیار کرے تو یقینی طور پر وہی معجزاتی واقعہ پیش آئے گا جس کو قرآن کی مذکورہ آیت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے— جو شخص بظاہر تمہارا دشمن تھا وہ تمہارا قریبی دوست بن جائے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ فطرت کا قانون ہے۔ اور میں نے اپنے ذاتی تجربہ میں بار بار فطرت کے اس اٹل قانون کو نزاعی مسئلہ کا یقینی حل پایا ہے۔ اس سلسلہ میں میرے تجربات سیکڑوں سے بھی زیادہ ہیں۔ جن لوگوں نے میری کتابیں پڑھی ہیں یا میری ڈائری یا میرے سفر نامہ کا مطالعہ کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ میں نے اس نوعیت کے سیکڑوں تجربات اپنی تحریروں میں نقل کئے ہیں۔
یہ سلسلہ میں نے ۱۹۶۵ میں ہفت روزہ ندائے ملت (لکھنؤ) سے شروع کیا تھا۔ اس کے بعد ۱۹۶۷ سے الجمعیۃ ویکلی (نئی دہلی) کی صورت میں اس کا تسلسل قائم رہا۔ ۱۹۷۶ سے یہ سلسلہ ماہنامہ الرسالہ کی صورت میں برابر جاری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ اصول نظری اعتبار سے بھی