Symbiosis between Science & Spirit
الرسالہ، مئی ۲۰۰۳
سوال
آج مسلمانوں میں ایسی جماعتیں اور گروہ موجود ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ اسلام میں توحید پر زور دیا گیا ہے۔ لہٰذا جماعت اور تنظیم توحید کے اتفاقی مسئلے پر اٹھانی چاہئے اور یہ جماعتیں اپنے زعم کے مطابق توحید کے اتفاقی مسئلے پر کام کر رہی ہیں۔
یہ لوگ قرآن کی تمام توحید والی آیتوں کو عوام کے سامنے پیش کر کے کہتے ہیں کہ اے لوگو، توحید کو اختیار کرو اور شرک کو چھوڑو۔ اس کائنات میں کوئی داتا، دستگیر، حاجت روا، مشکل کشا اور غوث اعظم وغیرہ نہیں، سوائے مالک کائنات کے۔
اس طرح یہ لوگ قرآن کی تمام اُن آیتوں کو جن میں شرک کی مذمّت بیان ہوئی ہے، پیش کر کے کہتے ہیں کہ چونکہ یہ کلمہ پڑھنے والے شرک کرتے ہیں اور شرک کی موجودگی میں نیک اعمال قبول نہیں ہوتے۔ لہٰذا ہم موحد لوگ ان قبر پرستوں (بریلویوں اور شیعوں، وغیرہ) کے پیچھے نہ نماز پڑھیں گے اور نہ ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔
مسلمانوں کے اس طرح کے دعووں کو سامنے رکھتے ہوئے چند سوالات پیش خدمت ہیں۔ امید ہے آپ تسلی بخش جواب دیں گے۔
۱۔ کلمہ پڑھنے کے بعد اگر شرک ہو تار ہے تو کیا ایسے شخص پر مشرک کا اطلاق ہوگا۔ ۲۔ مسلم اور مشرک کی تعریف کیا ہے۔ کیا مسلمان مشرک ہوسکتا ہے۔
۳۔ مسلمانوں میں جولوگ واضح شرک کرتے ہیں اُن کی اقتداء میں صلوٰۃ پڑھنے کی کیا دلیل ہے جب کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ مشرک کے اعمال قبول نہیں ہوتے۔
۴۔ جب مشرک امام کی اپنی صلوٰۃ نہیں ہوتی تو موحد مقتدی کی نماز کیسے ہوگی۔ ۵۔ امت مسلمہ کے بہت سے علماء اس بات کے قائل ہیں کہ سورہ یوسف کی آیت ۱۰۶ کی روشنی میں کلمہ پڑھنے والے بھی مشرک ہو سکتے ہیں لہٰذا ان کے پیچھے نماز نہ پڑھی جائے۔ ۶۔ جب شراب کا پینے والا شرابی کہلائے گا تو شرک کرنے والا مشرک کیوں نہیں کہلایا جائے گا۔