Symbiosis between Science & Spirit
الرسالہ، مئی ۲۰۰۳، صفحہ ۴۱
۷۔ کلمہ پڑھنے کے بعد اگر ایک ہندو مندر جاتا ہے تو یہ کام اس کے مسلمان ہونے میں رکاوٹ ہوگا اور اُسے بدستور ہندو سمجھا جائے گا۔ لیکن اگر دوسرا شخص کلمہ کا اقرار کرنے کے بعد قبر کا طواف کرتا رہے تو یہ عمل اس کے اسلام میں رکاوٹ کیوں نہیں بنے گا اور ایسا شخص مشرک کیوں نہیں ہوگا۔ ۸۔ آپ کے لٹریچر اور کتابوں میں میں نے قبر پرستی اور شرک کے پہلوؤں پر اتنا زیادہ زور نہیں دیکھا جتنا زور توحیدی ٹائپ کے لوگ لگاتے ہیں۔ اس فرق کی وجہ کیا ہے، جب کہ آپ بھی شرک کے مخالف ہیں، بلکہ سخت ترین مخالف۔ (عبداللطیف، کراچی، ۲۵ دسمبر ۲۰۰۲) جواب اختلاف کی برائی جو موجودہ مسلمانوں میں پائی جاتی ہے اُس کا سبب یہ نہیں ہے کہ مسلم جماعتیں توحید کے بجائے کسی اور عنوان پر کام کر رہی ہیں۔ اختلاف کا اصل سبب صرف ایک ہے، اور وہ انتہا پسندی (extremism) ہے۔ موجودہ زمانہ کی مسلم جماعتیں کسی نہ کسی پہلو سے انتہا پسندی کا طریقہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ کوئی اعتقادی انتہا پسندی کا شکار ہے، کوئی سیاسی انتہا پسندی کا، کوئی مسائلی انتہا پسندی کا، کوئی گروہی انتہا پسندی کا، کوئی کسی اور انتہا پسندی کا۔ یہی انتہا پسندی موجودہ نزاعات کا اصل سبب ہے۔ انتہا پسندی کو قرآن اور حدیث میں غلو کہا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایاکم والغلو فی الدین فانما هلك من كان قبلكم بالغلو فی الدين (النسائی، ابن ماجہ، مسند احمد) یعنی تم غلو سے بچو، کیوں کہ پچھلی امتیں غلوہی کے سبب سے ہلاک ہوئیں۔ غلو یا انتہا پسندی کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ کسی بات کو اُس کی آخری منطقی حد (logical extreme) تک لے جایا جائے۔ اور پھر اُس کی بنیاد پر انتہائی احکام صادر کیے جائیں۔ اُس کی ایک مثال خود آپ کی زیر نظر تحریر میں موجود ہے۔ توحید پر زور دینا بہت اچھا ہے۔ مگر یہ کہنا اتنا ہی غلط ہے کہ ”یہ کلمہ پڑھنے والے مسلمان چونکہ شرک کرتے ہیں اور شرک کی موجودگی میں نیک اعمال قبول نہیں ہوتے۔ لہٰذا ہم موحد لوگ ان قبر پرستوں (بریلویوں اور شیعوں وغیرہ) کے پیچھے نہ نماز پڑھیں گے اور نہ اُن کی نماز جنازہ میں شریک ہوں گے“۔