Don't preach, just teach.
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۳
یونیورسٹی کے طور پر بنایا تھا۔ وہاں ملک کے ہر اسٹیٹ کے لیے کوٹا مقرر تھا۔ حیدر آباد کا بھی ایک کوٹا تھا۔ چنانچہ حیدر آباد کے طلبہ کے لیے وہاں ایک نظام کالونی بنائی گئی تھی جو ابھی تک موجود ہے۔ انہوں نے کئی دلچسپ واقعات بتائے۔ مثلاً انہوں نے بتایا کہ ایک بار مدن موہن مالوی ٹرین میں سفر کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ محمد علی اور شوکت علی بھی تھے۔ نماز کا وقت آیا تو علی برادران نے نماز پڑھنے میں دیر کی۔ اس پر مدن موہن مالوی نے یاد دلایا کہ آپ کی عبادت کا وقت آگیا اور ابھی تک آپ نے نماز نہیں پڑھی۔
اگر آپ مدن موہن مالوی کی تصویر دیکھیں اور اس کے نیچے ان کا نام لکھا ہوا نہ ہو تو آپ یقین نہیں کر سکیں گے کہ یہ کسی ہندو کی تصویر ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ ان کے چہرے پر شاندار داڑھی ہے اور ان کا لباس بھی مسلم لباس ہے۔ اسی لیے ایک اُردو شاعر نے کہا تھا:
ہزار شیخ نے داڑھی بڑھائی سن کی سی مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی یہ وہ دور تھا جب کہ مسلم کلچر کا غلبہ ملک میں قائم تھا۔ مدن موہن مالوی ایک پنڈت تھے مگر ان کی وضع قطع ایسی تھی کہ ان کو دیکھ کر بظاہر یہ سمجھنا مشکل تھا کہ وہ پنڈت مدن ہیں یا مولوی مدن۔ دوسری زبانوں کے ساتھ وہ عربی اور فارسی زبان بھی جانتے تھے۔
۲ جون کو ایک مجلس میں میں نے سورہ والعصر کی تشریح کی۔ میں نے بتایا کہ قرآن میں انسان کی زندگی کو زمانہ (ٹائم) سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ جس طرح ٹائم ہر لمحہ گھٹتا رہتا ہے اسی طرح انسان ہر دن اپنی زندگی کی مقرر مدت کو کم کرتا ہوا موت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح برف پگھل کر ہر لمحہ کم ہوتی جارہی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، ہر آدمی کا کاؤنٹ ڈاؤن (countdown) ہو رہا ہے۔ ایک آدمی کی کل عمر اگر تقدیر میں دس ہزار دن کی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پیدا ہوتے ہی اس کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوگیا۔ یعنی آج اگر اس کی مدت عمر دس ہزار دن تھی تو کل اس کی عمر ۹۹۹۹ دن ہو جائے گی۔ اگلے دن ۹۹۹۸ دن اور اس کے بعد ۹۹۹۷ دن، وقس علی هذا۔
رشی کیش پہلے یوپی کا ایک ٹاؤن تھا۔ اب وہ نئی اسٹیٹ اترا نچل کا ایک حصہ ہے۔ رشی کیش
‹ Previous page Next page › Contents of January 2003 All issues