Al-Risala · January 2003 · page

Don't preach, just teach.

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۳

ہمالیہ کے دامن میں واقع ہے۔ اس کے ایک طرف ہمالیہ کی پھیلی ہوئی چوٹیاں دکھائی دیتی ہیں اور دوسری طرف گنگا کا پانی ہلکی موسیقی کے ساتھ بہتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہاں ہر طرف فطرت کا آفاقی ماحول ہے۔ پوراشی کیش اسی طرح فطرت کی گود میں بسا ہوا ہے۔

یہاں کا پروگرام ہندی زبان میں چھپا ہوا تھا۔ اس میں زیادہ تر سنسکرت کے الفاظ استعمال کئے گئے تھے۔ میرے لیے ان کو سمجھنا مشکل تھا۔ ۲ جون کو مجھے ایک پروگرام میں لے جایا گیا۔ یہاں گنگا کے کنارے مخصوص سجے ہوئے منچ پر گدی کی نشستیں بنی ہوئی تھیں۔ ان گدیوں پر ممتاز مہمان بٹھائے گئے تھے۔ مجھے بھی لے جا کر وہاں ایک گدی پر بٹھا دیا گیا۔ میری تمام تر دلچسپی اس وقت یہ تھی کہ میں یہ جانوں کہ ہندو دھرم کیا ہے اور اس کے رسم و رواج کیا ہیں۔ یہاں پہلے باجے کے ساتھ بھجن گایا گیا۔ دیر تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ اس کے بعد تمام لوگ ایک ایک تھال لے کر کھڑے ہو گئے جس میں کچھ روایتی چیزیں تھیں اور دئے جل رہے تھے۔ لوگوں نے کھڑے ہو کر مخصوص انداز میں اس کو گھمانا شروع کر دیا۔ یہ گنگا پوجا کی رسم تھی۔ میں نے سادہ طور پر یہ کیا کہ میں بدستور اپنی جگہ خاموش بیٹھا رہا۔ اس طرح میں نے اپنے منصوبہ کے مطابق ، گنگا پوجا کا معائنہ تو کیا مگر میں نے اپنے آپ کو اس میں شرکت سے بچائے رکھا۔

۳ جون کی صبح کو فجر کی نماز کے بعد میں اپنے کمرے سے باہر آیا۔ یہاں درختوں کے سایہ میں لمبا پختہ راستہ بنا ہوا تھا۔ یہاں میں اپنا جوتا اتار کر ننگے پاؤں ٹہلنے لگا۔ تازہ ہوا میں ٹہلنا ایک بے حد فرحت بخش تجربہ ہے۔ اسی کے ساتھ اگر ننگے پاؤں ٹہلنا ہو تو تاثیر اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ پیدل چلنے میں لمس فطرت (contact with nature) کا تجربہ ہوتا ہے۔ یہ تجربہ اس وقت نہیں ہو سکتا جب کہ آدمی جوتا اور موزہ پہن کر چل رہا ہو۔

یہاں جین مذہب کے کئی لوگ آئے ہوئے تھے۔ ایک جینی پیشوا جو اپنے منہ پر پٹی لگائے ہوئے تھے ان سے گفتگو ہوئی۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ میں ان لوگوں سے کہتا ہوں کہ آپ مندر بنانا چھوڑ و، انسان بناؤ۔ میں نے پوچھا کہ انسان بنانے کا فارمولا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی

‹ Previous page Next page › Contents of January 2003 All issues

Printed page