Al-Risala · January 2003 · page

Don't preach, just teach.

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۳

خواہشوں (desires) کو ہلاک کرنا۔ انہوں نے بتایا کہ جینی طریقہ کے مطابق، منہ پر پٹی باندھنا اسی با پر ہیز زندگی کی ایک علامت ہے۔

میں نے کہا کہ دوسرے لفظوں میں، آپ کا نظریہ سیلف کنٹرول کا نظریہ ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کوئی شخص سیلف کنٹرول کیوں کرے۔ کوئی شخص اپنی طاقتور خواہشوں کو کیوں دبائے۔ انسان کو سیلف کنٹرول پر آمادہ کرنے کے لیے ایک زیادہ بڑا محرک درکار ہے۔ اس سلسلہ میں میں نے انہیں اسلام کے نظریہ جنت سے متعارف کرایا۔

رشی کیش میں ایک ادارہ ہے جس کا نام یہ ہے۔ سٹریٹجک مینجمنٹ سروسز (SMS)۔ اس کے نمائندے (مسٹر انل نائر اور شیو ساگر چو پڑا) وغیرہ ۳ جون کو میرے کمرے میں آئے اور کہا کہ ہمیں آپ کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کرنا ہے۔ وہ ایجوکیشن اور اخلاقی سدھار کے بارہ میں میرے خیالات ریکارڈ کرنا چاہتے تھے۔ میں نے کہا کہ یہ بلاشبہ ہمارے دیش کا سب سے زیادہ اہم مسئلہ ہے۔ مگر میں اپنے تجربہ کے مطابق، اس کو نہیں مانتا کہ تعلیمی نصاب کو بدل کر یا ہسٹری کو دوبارہ لکھ کر یہ مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اگر یہ مسئلہ کا حل ہوتا تو اب تک مسئلہ حل ہو چکا ہوتا۔ کیوں کہ ۷ ۱۹ کے بعد ہماری ہر گورنمنٹ اسی مقصد کی بنیاد پر نصاب میں تبدیلی کرتی رہی ہے۔ مگر جیسا کہ آپ جانتے ہیں، اس کا کوئی بھی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ ہمارے ملک میں تعلیمی اصلاح کے نام سے بہت سے ادارے قائم ہیں۔ مثلاً شانتی نکیتن اور گرو کل وغیرہ، مگر یہ سب بے نتیجہ رہے۔ اسی طرح انگریزوں کی مثال بھی ہے۔ لارڈ میکالے کی سفارشات کے تحت برٹش گورنمنٹ نے ملک میں ایک ایسا انگریزی تعلیمی نظام جاری کیا جس کے متعلق اُن کا اندازہ یہ تھا کہ ہندوستانیوں کے خیالات اس طرح بدل جائیں گے کہ وہ ہمیشہ کے لیے برٹش حکومت کی ماتحتی قبول کر لیں گے۔ مگر اس کا نتیجہ بالکل الٹا نکلا۔ اسی انگریزی نظام تعلیم سے وہ تمام لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے انگریزوں کے خلاف فریڈم موومنٹ کی قیادت کی۔

پھر میں نے کہا کہ میں تعلیم برائے تعلیم (education for the sake of education)

‹ Previous page Next page › Contents of January 2003 All issues

Printed page