Don't preach, just teach.
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۳
کا قائل ہوں ۔ میرا نظریہ ہے کہ تعلیم کے نظام کو خالص فنی بنیاد پر چلانا چاہئے ۔ جہاں تک اخلاق اور کریکٹر کی بات ہے تو اس کام کے لئے زیادہ مؤثر طریقہ وہ ہے جس کو غیر رسمی تعلیم (informal education) کہا جاتا ہے۔ ہم خود ۴۰ سال سے اسی کام کو کر رہے ہیں۔ اللہ کے فضل سے ہمارے مشن کے ذریعہ ہزاروں لوگوں کے اندر ذہنی اور اخلاقی انقلاب آیا ہے۔ ۳ جون کو ناشتہ اور کھانے کی میز پر کئی لوگوں سے ملنے کا اور گفتگو کرنے کا موقع ملا۔ ہمارے ساتھ نو آدمی تھے۔ ان میں سے ۳ فارنر تھے۔ ان لوگوں کی باتوں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ انہیں روحانیت کا وہ تجربہ ہوا ہے جس کو وجد (ecstasy) کہا جاتا ہے۔ میں نے مختلف سوالات کر کے یہ جاننا چاہا کہ وجد کیا ہے۔ مگر وہ لوگ بار بار یہی کہتے رہے کہ وجد ایک اندرونی کیفیت ہے جس کو لفظوں کے ذریعہ بیان نہیں کیا جا سکتا۔ گفتگو کے آخر میں انہوں نے کہا کہ اب آپ بتائیے کہ وجد کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اگر آپ لوگ برا نہ مانیں تو میں کہوں گا کہ جو لوگ وجد کی اصطلاح میں روحانیت کی بات کرتے ہیں وہ صرف ایک مصنوعی یا غیر حقیقی تجربہ کو حقیقی سمجھنے کی غلطی کر رہے ہیں۔ میں نے قرآن کی آیت والذين آمنوا اشد حبا لله (البقره ۱۶۵) کی روشنی میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اصل یہ ہے کہ ہر آدمی کے اندر فطری طور پر اپنے خالق (خدا) کے لیے بے پناہ جذبہ محبت موجود ہوتا ہے۔ ہر آدمی خود اپنی فطرت کے زور پر یہ چاہتا ہے کہ وہ اس مرکز محبت کو پالے جس سے وہ اپنے اعلیٰ جذبات کو وابستہ کر سکے۔ موجودہ حالات میں خدا کا تصور لوگوں پر واضح نہیں ہے۔ خاص طور پر آریائی مذاہب (Aryan Religions) میں خدا کا عقیدہ وحدت وجود (monism) کے تصور پر مبنی ہے۔ اس تصور میں خدا ہم سے علیحدہ کوئی مستقل وجود نہیں۔ وہ ایک غیر مشخصی قسم کا مجرد تصور (abstract idea) ہے۔ اس لئے جو لوگ آریائی روایات میں پرورش پا کر نکلے ہیں وہ عملاً ایسے کسی شخص خدا سے روشناس نہیں ہوتے جس کو وہ اپنا مرکز محبت بنائیں اور اس کے ذریعہ ان کے اندر وجد کی کیفیت پیدا ہو۔ اس لئے وہ خود ساختہ ورزشوں کے ذریعہ اپنی ایک مفروضہ دنیا بناتے ہیں اور اس کو وجد سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان کا وجد حقیقۃً ایک فطری حقیقت کا غیر حقیقی انتساب (attribution) ہے، نہ کہ حقیقی مرکز محبت سے مربوط
‹ Previous page Next page › Contents of January 2003 All issues