Al-Risala · January 2003 · page

Don't preach, just teach.

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۳

ہونے کے نتیجہ میں پیدا ہونے والا تجربہ۔

ایک تعلیم یافتہ ہندو سے بات کرتے ہوئے اندازہ ہوا کہ ان کے دل میں اسلام کے خلاف سخت نفرت ہے۔ میں نے سنجیدگی کے ساتھ ان سے پوچھا کہ اسلام کے بارہ میں آپ کی وہ کون سی معلومات ہیں جن کی وجہ سے آپ کے دل میں اُس کے خلاف منفی جذبات پیدا ہوئے۔ انہوں نے چند باتیں بتائیں ۔ مثلاً محمود غزنوی نے سومناتھ کے مندر کو لوٹا۔ بابر نے انڈیا پر حملہ کیا۔ اور نگ زیب نے ہندوؤں کے خلاف جنگ کی۔ ہندوستان میں جبر کے ذریعہ اسلام پھیلایا گیا۔ میں نے کہا کہ آپ کو اسلام اور مسلمانوں کے درمیان فرق کرنا چاہئے ۔ اس کے بعد ہی آپ اس معاملہ میں منصفانہ رائے قائم کر سکیں گے۔ میں نے کہا کہ محمود غزنوی کا مندر کے سونے کو لوٹنا اسلام کے نزدیک بھی اتنا ہی غلط تھا جتنا کہ وہ آپ کے نزدیک غلط ہے۔ اسی طرح بابر کے حملہ کا کوئی تعلق اسلام سے نہیں ۔ اسلام کے نقطہ نظر سے بابر کو یا کسی مسلمان کو پر امن پیغام لے کر ہندوستان میں داخل ہونا چاہئے تھا، نہ کہ تلوار لے کر ۔ اسی طرح اور نگ زیب نے جو کچھ کیا اس کا بھی اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔ جہاں تک جبری کنورژن کا تعلق ہے تو یہ صرف ایک الزام ہے اس کا کوئی تاریخی ثبوت موجود نہیں۔ خود ہندو اسکالرس نے تسلیم کیا ہے کہ ہندوستان میں اسلام کی اشاعت پرامن طور پر ہوئی ہے، نہ کہ جبر اور تشدد کے ذریعہ۔

رشی کیش میں جن لوگوں سے ملاقات ہوئی اُن میں سے ایک قابلِ ذکر شخص مسٹر ترلوچن سنگھ تھے ۔ وہ نیشنل کمیشن فار مائینارٹیز کے وائس چیرمین ہیں ۔ وہ دہلی میں رہتے ہیں ۔ (3384664-Tel.: Res)۔ وہ مجھ کو میری تحریروں سے جانتے تھے۔ گفتگو کے دوران اندازہ ہوا کہ وہ ایک سمجھ دار اور حقیقت پسند آدمی ہیں اور اپنے موجودہ عہدہ کے لیے پوری طرح موزوں ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ انڈیا میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تناؤ کی جو حالت ہے وہ گویا ایک قسم کی سرد جنگ (cold war) ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فرقہ وارانہ مسئلہ کا صرف ایک ہی مؤثر

‹ Previous page Next page › Contents of January 2003 All issues

Printed page