Al-Risala · June 2003 · page

Politics is the art of the possible.

الرسالہ، جون ۲۰۰۳

خبرنامہ اسلامی مرکز ۱۵۸

۱۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمز کی نمائندہ مزونیکا نے یکم نومبر ۲۰۰۲ کو صدر اسلامی مرکز کا ٹیلی فون پر انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق کلوننگ اور اسلام سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ علاج کی ضرورت کے لیے جزئی کلوننگ اسلام میں جائز ہے مگر پورے معنوں میں کلوننگ ، یعنی انسان کا ثثنی بنانا اسلام میں جائز نہیں۔ اس طرح کی کلوننگ سے سارا تمدنی نظام تباہ ہو جائے گا۔ عجیب بات ہے کہ اہل مغرب ایک طرف انسانی آبادی میں اضافہ کو سب سے بڑا مسئلہ بتاتے ہیں اور دوسری طرف انسانی کلوننگ کے ذریعہ انسانی آبادی میں اضافہ کی کوشش کر رہے ہیں۔ ۲ سہارا ٹی وی (نئی دہلی) میں پرکھ کے پروگرام کے تحت ۳۱ جنوری ۲۰۰۳ کو ایک پینل ڈسکشن تھا۔ اس میں اعلی تعلیم یافتہ لوگ شریک ہوئے۔ اس کا موضوع جہاد تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی ۔ انہوں نے جو کچھ کہا اُس کا خلاصہ یہ تھا کہ جہاد پرامن جدوجہد کا نام ہے، وہ قتال کے ہم معنی نہیں۔ اسلام میں قتال صرف قائم شدہ ریاست کا کام ہے۔ غیر حکومتی تنظیموں کو قتال کرنے کی اجازت نہیں۔ ریاست بھی صرف دفاع کے لیے شدید ضرورت کے تحت قتال کر سکتی ہے۔ ریاست کا یہ قتال بھی اعلان کے ساتھ ہونا چاہئے۔ بلا اعلان جنگ یا پراکسی وار اسلام میں جائز نہیں۔

۳ انجمن امن دوست انسان دوست (نئی دہلی) کے تحت ۲ فروری ۲۰۰۳ کو مہندیان کے میدان میں ایک عوامی جلسہ ہوا۔ اس میں ہندو، مسلم، عیسائی ہر مذہب کے لوگ بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور قومی اتحاد کی اہمیت کے موضوع پر تقریر کی۔ اس میں بتایا گیا کہ ہندوستان مختلف مذہب اور کلچر کا ملک ہے۔ کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ اس فرق کو مٹا کر اتحاد قائم کریں۔ مگر یہ ناممکن ہے۔ اتحاد ہمیشہ فرق و اختلاف کو گوارا کرنے سے آتا ہے، نہ کہ فرق و اختلاف کو مٹانے سے۔ مزید یہ کہ فرق و اختلاف ایک رحمت ہے وہ کوئی برائی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2003 All issues

Printed page