Al-Risala · June 2003 · page

Politics is the art of the possible.

الرسالہ، جون ۲۰۰۳

۴ فروری ۲۰۰۳ کو دور درشن (نئی دہلی) نے صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر ریکارڈ کی۔ اس کا موضوع عید الاضحیٰ تھا۔ پندرہ منٹ کی تقریر میں بتایا گیا کہ عید الاضحیٰ کا مقصد یہ ہے کہ ابو الانبیاء حضرت ابراہیم کی سنت پر عمل کرنے کا عہد کیا جائے۔ عید الاضحیٰ قربانی کی عید ہے۔ اس کا پیغام یہ ہے کہ آدمی ہر حال میں حق پر قائم رہے، خواہ اُس کے لیے اُس کو قربانی دینا پڑے۔ کیرلا ( کالی کٹ ) کے ملیالم اخبار پر بودھنی کے نمائندہ مسٹر کے عبد الحکیم اور مسٹر ٹی سعید نے ۱۹ فروری ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ہندستانی مسلمانوں کے مسائل سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ اس وقت دنیا میں ۵۷ مسلم ممالک ہیں۔ ان سب کے مقابلہ میں ہندوستان کے مسلمان نہ صرف تعداد میں زیادہ ہیں بلکہ وہ ہر اعتبار سے سب سے زیادہ بہتر حالت میں ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ ہندوستان میں انتہا پسندوں کی طرف سے مسلمانوں کے لیے جو مسائل ہیں وہ اُن کے لیے چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کے لیے فطرت کی مہمیز ہیں تاکہ وہ اُن کے لیے ترقی کا زینہ بن سکیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندوستان کے مسلمان تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ البتہ میڈیا میں چونکہ یہ خبریں بہت کم آتی ہیں اس لیے عام لوگوں کو اس کی خبر نہیں۔ ہندی پندرہ روزہ وطن دوست (دہلی) کے نمائندہ مسٹر محمد رفیع نے ۲۰ فروری ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر بابری مسجد سے تھا۔ اس سلسلہ میں بتایا گیا کہ ہر سماج میں ہمیشہ نزاع کے اسباب موجود رہتے ہیں۔ ایسا حقیقۃ فطری قانون کے تحت ہوتا ہے، نہ کہ کسی کے عناد کی بنا پر۔ ایسی حالت میں ہر سماج میں اس کی ضرورت ہوتی ہے کہ لوگ صورت حال سے باخبر رہیں اور ایسے کسی بھی اقدام سے بچیں جس کا نتیجہ دھماکہ کی صورت میں نکلنے والا ہو۔ بابری مسجد کے معاملہ میں اس قسم کی ضروری تدبیر نہیں کی گئی۔ اگر پہلے سے ضروری تدبیر کی جاتی تو یقینی طور پر ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو بابری مسجد کا حادثہ پیش نہ آتا۔ سری نگر کے ہفت روزہ (The Week) کے سینئر کرسپانڈنٹ مسٹر طارق احمد بھٹ نے ۲۱

‹ Previous page Next page › Contents of June 2003 All issues

Printed page