Al-Risala · June 2003 · page

Politics is the art of the possible.

الرسالہ، جون ۲۰۰۳

فروری ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر مسلمانوں ہند کے مسئلہ سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ ہندوستان کے مسلمان کی موجودہ حالت کا تقابل اگر ۱۹۴۷ کی حالت سے کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہر اعتبار سے وہ بہت زیادہ ترقی کر چکے ہیں۔ ذاتی اعتبار سے بھی اور مسجد، مدرسہ، ادارہ وغیرہ کے اعتبار سے بھی۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کا مسئلہ صرف میڈیا کی خبروں میں ہے۔ حقیقت میں ان کا کوئی واقعی مسئلہ نہیں۔ اگر کوئی واقعی مسئلہ ہوتا تو ہرگز وہ اتنی ترقی نہیں کر سکتے تھے۔ بی بی سی لندن کے نمائندہ مسٹر شکیل اختر نے ۲۱ فروری ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر بابری مسجد، ایودھیا کے مسئلہ سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ تین مسجد یا تین ہزار مسجد کی بات اٹھانا بے معنی ہے۔ ۱۹۹۲ میں ہندوستان کی پارلیمنٹ نے ایک قانون پاس کیا تھا جس کو پلیسز آف ورشپ ایکٹ (Places of Worship Act) کہا جاتا ہے۔ اس ایکٹ میں یہ مقرر کیا گیا تھا کہ ملک کی تمام عبادت گاہوں کو ۱۹۴۷ کی حالت (statusquo) پر باقی رکھا جائے۔ البتہ اس میں بابری مسجد کا استثناء کیا گیا تھا۔ یہ کہا گیا تھا کہ بابری مسجد کا ایشو کورٹ میں ہے اس لیے بابری مسجد کا معاملہ کورٹ سے طے ہوگا۔ اب تمام فریقوں کو اسی ایکٹ پر قائم رہنا چاہیے۔ کوئی بھی اقدام جو اس ایکٹ کے خلاف ہو وہ ملک میں انارکی لائے گا، وہ مسئلہ کا حل نہ ہوگا۔

جین ٹی وی (نئی دہلی) میں ۲۲ فروری ۲۰۰۳ کو ایک پینل ڈسکشن ہوا۔ اس کا موضوع متوقع گاؤ کشی قانون تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور سوال وجواب کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ گائے اسلام میں کوئی مقدس جانور نہیں۔ وہ دوسرے جانوروں کی طرح ایک جانور ہے۔ ہندوستان میں جمہوری نظام ہے۔ اکثریت کی رائے سے اس معاملہ میں جو بھی فیصلہ ہوگا مسلمانوں کے لیے وہ قابل قبول ہونا چاہیے ۔ کوئی ایسا فیصلہ جو مسلمانوں کے عقیدہ اور عبادت جیسی مذہبی چیزوں میں خلل کا باعث ہو

‹ Previous page Next page › Contents of June 2003 All issues

Printed page