Be always insan-friendly
الرسالہ، جون ۲۰۰۳
اس میں تو ضرور مسلمان سامنے آئیں گے۔ مگر گائے کشی جیسے مسئلہ میں مسلمانوں کی پالیسی غیر جانبداری (indifference) کی ہونی چاہئے۔
بھارتیہ ودیا بھون (نئی دہلی) کی طرف سے بھون کے ہال میں ۲۵ فروری ۲۰۰۳ کو ایک بڑا فنکشن ہوا۔ اس میں ان کے اسکول کے بارہویں کلاس کے طلبہ اور ان کے ٹیچر اور سر پرست اکٹھا ہوئے ۔ یہ ایک الوداعی فنکشن تھا۔ صدر اسلامی مرکز کو اس میں چیف گیسٹ کے طور پر بلایا گیا۔ اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ زندگی میں کامیابی کا سب سے کارگر فارمولا کیا ہے۔ وہ یہ کہ آپ انسانوں کے خیر خواہ بن جائیں ۔ آپ انسان سے محبت کریں۔ ایک جملہ میں وہ فارمولا یہ ہے ہمیشہ انسان دوست رویہ اختیار کرو:
Be always insan-friendly
ایران ٹی وی کی ٹیم نے ۷ مارچ ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس انٹرویو کا موضوع نماز اور نماز با جماعت سے تھا۔ آدھ گھنٹہ کے اس انٹرویو میں جو کچھ کہا گیا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ نماز اصلاً اللہ کی یاد کے لیے ہے۔ وہ اللہ سے قربت کا ذریعہ ہے۔ مگراسی کے ساتھ وہ ہماری روز مرہ کی زندگی سے جڑی ہوئی ہے۔ سچ وقتہ نماز گویا ٹائم مینجمنٹ کی تربیت ہے۔ اللہ اکبر تواضع کا سبق ہے۔ سورہ فاتحہ کی قرأت خدا رخی زندگی اختیار کرنے کا پیغام ہے۔ نماز کے آخر میں السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہنا پر امن زندگی گزارنے کا عہد ہے۔ با جماعت نماز کا مطلب، تنظیم اور ڈسپلن کے ساتھ نماز ادا کرنا۔ یہ تمام مسلمانوں کے لیے اتحاد کا پیغام ہے۔ اسی لیے قرآن میں نماز کو فلاح کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔
نئی دہلی کے میگزین راشٹریہ سہارا (انگریزی) کے نمائندہ مسٹر عابد حسین نے ۸ مارچ ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ اس انٹرویو کا تعلق مسلمانان ہند سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمانوں کے بارے میں یہ کہنا کہ ان کے حالات بد سے بد تر ہوتے جا رہے ہیں بالکل غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کے حالات بد سے بہتر ہو رہے ہیں۔ مسائل زندگی کا
‹ Previous page Next page › Contents of June 2003 All issues