Al-Risala · June 2003 · page

Be always insan-friendly

الرسالہ، جون ۲۰۰۳

ناگزیر حصہ ہیں۔ وہ ہر ایک کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ چنانچہ مسلمانوں کو بھی دوسروں کی طرح مسائل پیش آتے ہیں اور پیش آتے رہیں گے۔ مگر اسی کے ساتھ نیا زمانہ مسلمانوں کے لیے بہت سے نئے مواقع لایا ہے۔ ان مواقع کو استعمال کر کے مسلمان ہر جگہ ترقی کر رہے ہیں۔ ہر آدمی خود اپنے حالات کو دیکھ کر جان سکتا ہے کہ آج اس کے حالات پہلے سے بہت بہتر ہیں۔ مسجد، مدرسہ، اسلامی ادارے ۱۹۴۷ کے مقابلہ میں آج پہلے سے بہت زیادہ بہتر ہیں۔ اس لیے یہ وقت شکر کرنے کا ہے، نہ کہ شکایت کرنے کا۔

۱۳ سینٹر فار پروموٹنگ ملٹی کلچرل ڈائیلاگ (نئی دہلی) کی طرف سے ۱۷ مارچ ۲۰۰۳ کو ہمدرد یونیورسٹی کے کنونشن سینٹر میں ایک سیمینار ہوا۔ اس کا عنوان یہ تھا: Communal Harmony for Peace And Progress اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اُس میں شرکت کی اور موضوع پر خطاب کیا۔ اُن کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ سماجی ہم آہنگی ہر ملک کے لیے ضروری ہے۔ اس کے بغیر کوئی ترقی نہیں ہوسکتی۔ مگر سماجی ہم آہنگی اس طرح نہیں آسکتی کہ سماج کے اندر اختلافات کو ختم کر کے یکسانیت لائی جائے ۔ اس قسم کا اتحاد جس کو یونی کلچر لزم کہا جاتا ہے وہ بالکل ناممکن ہے۔ جو چیز ممکن ہے وہ صرف ملٹی کلچر لزم ہے۔ ضرورت ہے کہ لوگوں کو برداشت اور ٹالرنس کی تعلیم دی جائے، نہ کہ بے فائدہ طور پر کلچرل یکسانیت کا بلڈوزر چلایا جائے۔

۱۴ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیر اہتمام چنمیا مشن (نئی دہلی) میں ایک آل انڈیا سیمینار ہوا۔ اس کا موضوع یہ تھا: اکیسویں صدی میں فروغ اردو کا ایجنڈا۔ اس سیمینار کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اُس کے دو اجلاس ۲۱ مارچ اور ۲۳ مارچ ۲۰۰۳ میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے دو تقریریں کیں۔ ان تقریروں میں خاص طور پر بتایا گیا کہ ۱۹۴۷ کے بعد کے حالات میں اردو زبان کو ملک میں زندہ رکھنے کا سب سے بڑا کام مدارس نے کیا ہے جس کا جال ہمارے علماء نے سارے ملک میں پھیلا دیا۔ یہ مدارس جن کا ذریعۂ

‹ Previous page Next page › Contents of June 2003 All issues

Printed page