Don't preach, just teach.
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۳
حل ہے، اور وہ دونوں فرقوں کے درمیان سوشیلائیزیشن(Socialization) ہے۔ ضرورت ہے کہ دونوں کے درمیان ملنے جلنے کے مواقع کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جائے۔ ملنا جلنا اپنے آپ اس مسئلے کا حل بن جائے گا۔
ایک اور بات اُنہوں نے یہ کہی کہ دونوں فرقوں کے صرف نرم دل والے لوگ اگر ملیں تو اس سے مطلوب فائدہ حاصل ہونے والا نہیں۔ ضرورت ہے کہ دونوں طرف کے گرم دل کے لوگ باہم ملیں اور تعلقات کو بڑھائیں۔ اُنہوں نے کہا کہ دونوں طرف کے انتہا پسندوں کو مل کر بیٹھنا چاہئے: Extremists should sit. کانفرنس کے رسمی اجتماعات میں شرکت کے علاوہ بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ایک ملاقات میں خدا کے وجود کا تذکرہ ہوا۔ ایک تعلیم یافتہ ہندو نے کہا: خدا کہیں باہر نہیں، وہ تو خود ہمارے اندر موجود ہے۔ میں نے کہا کہ بہت سے لوگ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں مگر اس نظریہ کے حق میں کوئی علمی دلیل موجود نہیں۔ ’’خدا انسان کے اندر ہے‘‘ صرف ایک لفظی بیان ہے، وہ کوئی مدلّل بیان (reasoned statement) نہیں۔
اصل یہ ہے کہ اس معاملہ میں ہندو ازم ایک گہرے تضاد کا شکار ہے۔ ہندو ازم کا عقیدہ یہ ہے کہ انسان خدا کا ایک اَنش ہے۔ اس عقیدہ کو ادویت واد کہتے ہیں۔ انسان اگر خدا کا جز ء ہے تو انسان کے اندر خدا والی صفت ہونی چاہئے، مثلاً تخلیق کی قدرت۔ مگر کسی بھی دلیل سے اس کا ثبوت نہیں ملتا۔ اس نظریہ کو ثابت کرنے کے لیے قطرہ اور سمندر کی مثال دی جاتی ہے۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، قطرہ میں سمندر کے سارے اوصاف موجود ہیں جب کہ انسان میں کوئی بھی خدائی صفت موجود نہیں۔ اس فکری تضاد کو رفع کرنے کے لیے ہندوؤں میں دوسرا عقیدہ پیدا ہوا جس کو دوئت واد کہا جاتا ہے، یعنی خدا الگ ہے اور انسان الگ۔ اس نظریہ کی حامی ایک ممتاز شخصیت مادھو چاریہ کی ہے۔ اگرچہ ہندوؤں میں شنکر آچاریہ کا ادویت واد زیادہ مقبول ہوا اور مادھو چاریہ کا دوئت واد زیادہ مقبول نہ ہوسکا۔ ایک تعلیم یافتہ ہندو سے خدا کے عقیدہ پر گفتگو ہوئی۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمارا ماننا یہ ہے کہ خدا
‹ Previous page Next page › Contents of January 2003 All issues