Al-Risala · July 2003 · page

Leave Iraq or face war

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳

عراق میں الٹی گنتی (count down) کا عمل شروع ہوگیا۔ آج کے تمام اخباروں کی پہلی سرخی صرف ایک ہے۔ امریکی صدر جارج بش کا الٹی میٹم عراقی صدر صدام حسین کے نام، عراق چھوڑو یا جنگ کا سامنا کرو:

Leave Iraq or face war

امریکا کے اس الٹی میٹم میں کہا گیا ہے کہ صدر صدام حسین کو ۴۸ گھنٹہ کے اندر عراق چھوڑ دینا چاہیے ۔ ورنہ امریکا اپنے اتحادیوں (برطانیہ، اسپین، وغیرہ) کے ساتھ عراق پر شدید بمباری شروع کردے گا۔

عجیب بات ہے کہ دنیا بھر کے عوام، بشمول امریکی اور برطانوی عوام، اس حملہ کے خلاف ہیں۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ امریکا کو اقوام متحدہ کے فیصلہ کی پابندی کرنا چاہئے۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ عراق پر یہ حملہ امریکا کی سنگین غلطی ہوگی۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ جارج بش نے اپنے آپ کو دنیا کا گارجین بنالیا ہے مگر خود اس گارجین کا گارجین کون ہوگا:

Bush has appointed himself as the guardian of the world, but who will guard the world against the guardian. ۱۹ مارچ ۲۰۰۳ عراق پر امریکی حملہ کے بارے میں سیاسی مبصرین کا عام طور پر یہ کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ ہوئی تو اس میں امریکا کے مجموعی طور پر سو بلین ڈالر خرچ ہوں گے ۔ یہ جنگ نہ صرف عراق کے لیے تباہ کن ہوگی بلکہ خود امریکا کی اقتصادیات بھی اس کے نتیجہ میں شدید نقصان سے دوچار ہوگی۔ تاہم امریکا کے لیے یہ ایک وقتی صدمہ ہوگا۔ آخری نتیجہ کے اعتبار سے یہ جنگ امریکا کے لیے ٹھیک اُسی طرح نفع بخش ثابت ہوگی جس طرح دوسری عالمی جنگ امریکا کے لیے بے حد مفید ثابت ہوئی تھی۔ عراق پر قبضہ کے بعد امریکا وہاں کے تیل کے ذخائر کا اجارہ دار بن جائے گا۔ اس جنگ میں امریکا کو یہ موقع ملے گا کہ وہ

‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues

Printed page