Al-Risala · January 2003 · page

Don't preach, just teach.

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۳

انسان کے اندر ہے، خدا انسان کے باہر نہیں جس کو کہیں اور تلاش کرنے کی ضرورت ہو۔ میں نے کہا کہ خدا کی موجودگی کا احساس ضرور انسان کے اندر ہے۔ مگر خدا کی ذات ہمارے وجود کے باہر ہے، نہ کہ ہمارے اندر۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ جب خدا کا احساس ہمارے اندر موجود ہے تو یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا ہمارے اندر ہے، اُس کو باہر ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں۔ میں نے کہا کہ خدا کا احساس اندر ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ باہر موجود نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کیوں کر ہو سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ تو ہر انسان کا عام تجربہ ہے۔ ہر شخص یہ جانتا ہے کہ پیاس ہمارے اندر موجود ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ خود پانی بھی ہمارے اندر موجود ہے۔ ہر آدمی کا ذاتی تجربہ ہے کہ پیاس اگرچہ ہمارے اندر ہے مگر پانی ہم سے الگ اپنا مستقل وجود رکھتا ہے۔ آپ لوگ احساسِ خداوندی کو وجودِ خداوندی کے مفہوم میں لے رہے ہیں۔ میری یہ بات سن کر وہ کچھ دیر چپ رہے اور کہا کہ میں اپنے گرو سے پوچھ کر کل آپ کو بتاؤں گا۔ لیکن اگلے دن اُن سے ملاقات نہ ہو سکی۔ رشی کیش کا یہ اجتماع بہت بڑے پیمانے پر کیا گیا تھا۔ اس میں نہ صرف ملک کے بلکہ دوسرے ملکوں کے ہندو نمائندے شریک ہوئے۔ تین دن تک ہر طرف زبردست مذہبی دھوم نظر آئی— بھجن، مذہبی سنگیت، کرشن کتھا، گنگا پوجا، طرح طرح کی مذہبی رسمیں، وغیرہ۔

میں نے سوچا کہ کیا یہ حقیقی معنوں میں مذہبی دھوم ہے۔ میرے دل نے کہا کہ نہیں۔ کیوں کہ یہاں ظاہری ہنگامے تو کافی تھے مگر مذہب کی حقیقی روح نظر نہ آئی۔ ایک بوڑھے ہندو نے درد کے ساتھ کہا کہ یہاں آکر مجھے زیادہ خوشی نہیں ہوئی۔ رنگ برنگ کے یہ پروگرام مجھے صرف تام جھام دکھائی دیتے ہیں۔ مذہب کی اصل اسپرٹ کا کہیں پتہ نہیں۔

میں نے مزید سوچا تو مجھے محسوس ہوا کہ یہ سب مذہب نہیں ہے بلکہ کلچرل ہے۔ خود مسلمانوں کا حال بھی تقریباً یہی ہے۔ آج کل مسلمانوں میں مذہب کے نام پر کافی دھوم دکھائی دیتی ہے۔ مگر یہ سب اپنی حقیقت کے اعتبار سے کلچر اسلام کے مظاہر ہیں، نہ کہ ربانی اسلام کے۔ ربانی اسلام وہ ہے جس میں معرفت کی گہرائی ہو۔ جس میں سچائی کا اعتراف ہو۔ جس میں خوف خدا کا غلبہ ہو۔ جس میں

‹ Previous page Next page › Contents of January 2003 All issues

Printed page