Al-Risala · July 2003 · page

۲۹ مارچ ۲۰۰۳

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳

صدر امریکا جارج بش نے جب عراق پر حملہ کیا تو اُن کا اندازہ تھا کہ یہ جنگ صرف چند دن میں ختم ہو جائے گی۔ اُن کی انٹلی جنس نے انہیں بتایا تھا کہ عراق کے عوام صدّام حسین سے نفرت کرتے ہیں۔ اس لیے جب امریکی فوجیں عراق میں داخل ہوں گی تو وہ اُن کا استقبال کریں گے۔ عراقیوں نے امریکی اور برطانوی فوجوں کے خلاف کم از کم وقتی طور پر گوریلا وار چھیڑ دی ہے۔ انہوں نے امریکی اور برطانوی فوجوں کو کچھ نقصان بھی پہنچایا ہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ عراق کے لوگ صدام حسین کی سخت گیر ڈکٹیٹر شپ کی بنا پر اُن سے نفرت کرتے ہوں۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ حملہ آور امریکیوں سے ضرور پیار کریں گے۔

دوسری بات جو عراق پر امریکی حملہ کے بعد سامنے آئی ہے۔ وہ یہ کہ ساری دنیا کے مسلمان امریکا کے خلاف ہوگئے ہیں۔ ہر مسلم ملک میں امریکا کے خلاف مظاہرے کیے جارہے ہیں۔ حتی کہ صدام حسین اس وقت ساری دنیا کے مسلمانوں کے ہیرو بن گئے ہیں۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمس (۲۸ مارچ ۲۰۰۳) میں مسٹر پریم شنکر جھا کا ایک مضمون چھپا ہے۔ اس کا عنوان ہے : Stuck in Iraq ۔ اس مضمون میں وہ موجودہ صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ صدام حسین داخلی طور پر عراقیوں میں بہت زیادہ غیر مقبول ہو سکتے ہیں مگر وہ مسلمانوں کے لیے خارجی حملہ کے خلاف مزاحمت کی علامت بن گئے ہیں :

While Saddam may be highly unpopular within the domestic Iraqi context, he has become a symbol of resistance to foreign aggression. (p. 16)

۲۹ مارچ ۲۰۰۳

آج امریکا۔ عراق جنگ کا دسواں دن ہے۔ یہ جنگ امریکا کے لیے بظاہر مشکل ثابت ہورہی ہے۔ مثلاً صدام حسین نے چھاپہ مار دستوں کو حرکت میں لا کر امریکی فوج کی رسد کو وقتی طور پر کاٹ دیا۔ امریکی فوج کو ضروری سامان پہنچنے میں مشکل پیش آرہی ہے۔ اس بنا پر اُن کی پیش قدمی وقتی طور

‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues

Printed page