Bush goes Vietnam way.
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳
پرنسٹ ہوگئی ہے۔ ۲۹ مارچ کے انگریزی روز نامہ پائیئر(The Pioneer) نے اپنی پہلی خبر کی سرخی ان الفاظ میں قائم کی ہے کہ بش ویتنام کے راستہ پر:
Bush goes Vietnam way.
اسی طرح ہندوستان ٹائمْس کے آج کے اداریہ کا عنوان یہ ہے کہ سنگین نوعیت کا کمتر اندازہ (Grave Misunderestimation)
میڈیا میں جو رپورٹیں آرہی ہیں اُن کے اعتبار سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب امریکی صدر جارج بُش کے لیے شاید دو میں سے ایک کا چوائس ہے۔ یا تو وہ ویتنام کی طرح عراق سے واپسی کا فیصلہ کریں۔ یا وہ بھاری بم گرا کر عراق کو بالکل تباہ کردیں۔ مگر جارج بُش کے لیے دونوں ہی چوائس یکساں طور پر سخت مشکل ہے۔ اگر وہ عراق سے واپسی کا فیصلہ کرتے ہیں تو یہ اُن کے لیے اور امریکہ کے لیے بد ترین رسوائی کے ہم معنی ہوگا۔ یہ قومی رسوائی اُن کے لیے غالباً شکست سے زیادہ بُری ثابت ہوگی۔ اور اگر وہ بھاری بم باری کر کے عراق کو تباہ کریں تو جارج بُش کو امریکی عوام کے اس سوال کا جواب دینا ہوگا کہ امریکی تاریخ کی یہ سب سے بڑی قربانی کیوں دی گئی۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ اس طرح کے معاملہ کو آدمی عزت کا سوال بنا لیتا ہے۔ اور پھر وہ کسی بھی حال میں پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ ۳۰ مارچ ۲۰۰۳ قدیم زمانہ میں کسی جنگ کی خبر بقیہ دنیا کو برسوں کے بعد پہنچتی تھی۔ مگر آج کمیونیکیشن کا زمانہ ہے۔ عراق کے خلاف امریکا کی جنگ کی خبریں ہر لمحہ ساری دنیا تک پہنچ رہی ہیں۔ حتی کہ لوگ اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے اپنے ٹی وی سیٹ پر جنگ کا حقیقی منظر دیکھ رہے ہیں۔
اسی کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ ساری دنیا کے مسلمانوں میں غم اور غصہ کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔ مختلف ملکوں سے مسلمان سفر کر کے عراق پہنچ رہے ہیں تاکہ عراقی مسلمانوں کی مدد کریں۔ ایک خبر کے مطابق، ہندوستان سے ۶ مسلم نو جوانوں کی ایک ٹیم عراق پہنچی ہے۔ اس ٹیم کی قیادت سعید نوری کر رہے ہیں جو بمبئی کی رضا اکیڈمی کے صدر ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues