۳۱ مارچ ۲۰۰۳
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳
اس قسم کے امدادی دستوں کا تجربہ بہت پُرانا ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں ہجرت کی تحریک چلی۔ اس میں ہندوستان کے مسلمان ہزاروں کی تعداد میں سفر کر کے کابل پہنچے۔ اسی طرح پچھلی امریکا۔ عراق جنگ میں مختلف ملکوں سے لوگ عراق پہنچے تھے۔ اسی طرح طالبان کی تحریک کے زمانہ میں ہزاروں مسلمان افغانستان میں داخل ہوئے تھے۔ مگر یہ تمام مہاجر مجاہدین ایک ہی انجام سے دوچار ہوئے۔ وہ یہ کہ وہ یا تو ہلاک ہوگئے یا بھاگ کر اپنے وطن واپس آئے۔ یقینی طور پر یہی انجام اُن لوگوں کا بھی ہونے والا ہے جو موجودہ جنگ میں عراق پہنچ رہے ہیں۔ اس قسم کے غیر منظم اور غیر تربیت یافتہ لوگ موجودہ جنگ میں کوئی بھی کردار ادا نہیں کر سکتے۔ وہ دوسروں کے لیے بھی مصیبت ہیں اور خود اپنے لیے بھی مصیبت۔
۳۱ مارچ ۲۰۰۳
امریکی انتظامیہ کا خیال ہے کہ عراق کے خلاف جنگ میں اُس کی جیت یقینی ہے۔ چنانچہ اُس نے مختلف کمپنیوں کو دعوت دی ہے کہ وہ عراق کی بعد از جنگ تعمیر میں حصہ لیں۔ خاص طور پر عراق کی تیل کی صنعت کو دوبارہ منظم کرنے کے لیے۔ امریکی انتظامیہ نے اس مقصد کے لیے جن کمپنیوں کو چنا ہے وہ سب امریکی کمپنیاں ہیں۔ اس پر امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنا تبصرہ شائع کیا ہے۔ ٹائمس آف انڈیا (۳۱ مارچ) کے مطابق، نیو یارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ امریکی حکومت کا یہ فیصلہ کہ وہ صرف امریکی کمپنیوں کو عراق کی تعمیر نو کے لیے مدعو کرے، اُس بین اقوامی تقسیم میں مزید اضافہ کرے گا جو کہ پہلے ہی سے بڑے پیمانہ پر موجود ہے: The (US) government's decision to invite only American Corporations... has added to the profound international divisions that already surround the war. (p. 14)
امریکا اس جنگ میں اقوام متحدہ کی تائید حاصل نہ کر سکا۔ بڑی طاقتیں مثلاً فرانس، روس، چین سب اس معاملہ میں امریکا کے خلاف تھیں۔ ساری دنیا کے عوام تقریباً ۷۰ فیصد تک امریکا کے مخالف ہوگئے ۔ اب اگر تجارتی مفاد کے معاملہ میں بھی امریکا سب سے الگ ہو گیا تو جنگ کے بعد
‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues