یکم اپریل ۲۰۰۳
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳
امریکہ کو ایسے مسائل پیش آ سکتے ہیں جن کا حل آسان نہ ہو گا۔
اپنے آپ کو سپر پاور سمجھنے کے باوجود، بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ نے عراق کے خلاف لڑائی چھیڑ کر اپنے آپ کو ایک مشکل میں پھنسا لیا ہے۔ اب اگر وہ ویتنام کی طرح عراق چھوڑ کر لوٹ جائے تو یہ امریکہ کے لیے بہت بڑی بے عزتی کے ہم معنی ہوگا۔ اور اگر وہ اپنی بڑھی ہوئی فوجی طاقت سے عراق کو تباہ کر دے تب بھی اندیشہ ہے کہ امریکہ کی یہ فتح پُرک فتح (pyrrhic victory) ثابت ہو جو ہار سے کچھ ہی مختلف ہو۔
یکم اپریل ۲۰۰۳
عراق میں جب سے امریکہ کی فوجی کارروائی شروع ہوئی ہے، میرے پاس اکثر لوگوں کے ٹیلی فون آتے رہتے ہیں۔ ملک کے اندر سے بھی اور ملک کے باہر سے بھی۔ وہ پوچھتے ہیں کہ صدام حسین کا کیا قصور تھا جس کی بنا پر امریکا نے اُس کے اوپر فوجی حملہ کر دیا اور ساری مسلم دنیا کو ذلت اور مصیبت کے غار میں دھکیل دیا۔
اس مسئلہ میں سوچنے کا یہ آغاز صحیح نہیں۔ صحیح آغاز یہ ہے کہ اس سوچ کو قرآن سے شروع کیا جائے۔ قرآن میں بار بار مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ تم ہی غالب رہو گے اگر تم ایمان والے ہو (و انتم الاعلون ان کنتم مومنین)۔ اسی طرح فرمایا کہ اللہ منکروں کو مومنین کے اوپر ہرگز راہ دینے والا نہیں (ولن يجعل الله للكافرين على المؤمنين سبيلا)۔ اس طرح کی کثیر آیتیں جو قرآن میں ہیں اُن کی روشنی میں غور کیا جائے تو یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ قسم کی صورت حال میں ہمارے سوچنے کا رخ یہ نہیں ہونا چاہئے کہ فلاں غیر مسلم طاقت نے مسلمانوں کو کیوں ذلیل و مغلوب کیا۔ بلکہ یہ سوچنا چاہئے کہ خود مسلمانوں میں وہ کون سی کمزوری آ گئی تھی جس کی بنا پر غیر مسلم طاقتوں کو یہ موقع ملا کہ وہ مسلمانوں کو ذلت اور مغلوبیت سے دوچار کریں۔ اصل یہ ہے کہ صدام حسین کا یا اُن کے حامیوں کا قصور امریکا کا قصور کی نسبت سے نہیں ہے بلکہ وہ خدا کی نسبت سے ہے۔ اس اعتبار سے مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکا کی فوجی کارروائی دراصل اُن کے
‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues