Don't preach, just teach.
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۳
اخلاقی اقدار زندہ ہوں۔ جس میں انصاف کی بولی بولی جائے خواہ وہ اپنے موافق ہو یا اپنے خلاف، وغیرہ۔ مگر یہی وہ چیزیں ہیں جن کا اسلام کے نام پر ہونے والے ہنگاموں میں کہیں پتہ نہیں۔ ایک تعلیم یافتہ ہندو سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اُنہوں نے میڈیٹیشن (meditation) کے فائدے بتائے۔ بتائے۔ اُنہوںنے کہا کہ ہمارے سماج میں سب سے بڑا پرابلم ایگو(ego) کا پرابلم ہے۔ ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ کوئی بات اپنے مزاج کے خلاف ہو تو فوراً اُس کا ایگو بھڑک اُٹھتا ہے۔ جس کا آخری نتیجہ بریک ڈاؤن (break down) ہوتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ میڈیٹیشن کے ذریعہ ہم ایگو کو تحلیل (dissolve) کر دیتے ہیں۔ گویا کہ انا والا آدمی بے انا بن جاتا ہے اور پھر وہ کسی کے لیے پرابلم نہیں رہتا۔
میں نے کہا کہ یہ صرف کہنے کی ایک بات ہے۔ انا یا ایگو انسان کی ایک فطری صفت ہے، اُس کو میڈیٹیشن جیسی ورزشوں کے ذریعہ تحلیل یا ڈیزیلو کرنا ممکن ہی نہیں۔ میں نے کہا کہ ایگو انسانی دماغ کی ایک صفت ہے۔ اور میڈیٹیشن میں آپ لوگ جو کچھ کرتے ہیں وہ ایک جسمانی ورزش (physical exercise) ہوتی ہے اور ایک دماغی صفت کو جسمانی ورزش کے ذریعہ ختم کرنا نفسیاتی اعتبار سے ممکن ہی نہیں۔ چنانچہ تجربہ یہی بتاتا ہے کہ میڈیٹیشن کے پورے کورس سے گزرنے کے باوجود لوگوں کے اندر ایگو پوری طرح موجود ہوتا ہے اور جب بھی اُس کے انا پر چوٹ پڑے تو وہ بھڑک اُٹھتا ہے۔
میں نے کہا کہ ایگو کو ختم کرنا ممکن نہیں۔ البتہ اُس کو ڈیفیوز (defuse) کیا جا سکتا ہے۔ اسلام کا طریقہ یہی ہے۔ اسلام آدمی کی سوچ کے اندر انقلاب لاتا ہے۔ یہ سوچ اس بات کی ضامن بن جاتی ہے کہ جب بھی آدمی کی انا بھڑکے تو اُس کی سوچ متحرک ہو کر اُس کی انا کے بم کو ڈیفیوز کر دے۔ میں نے کہا کہ انا (ایگو) کوئی برائی نہیں، وہ ایک طاقت ہے۔ آپ کو صرف یہ کرنا ہے کہ اپنے ذہن کو اتنا زیادہ ترقی دیں کہ وہ انا کو صرف اچھے استعمال میں لے، وہ اُس کو برے استعمال تک نہ جانے دے۔ ایک صحافی نے انٹرویو کے دوران سوال کیا کہ اسکول اور کالج کی تعلیم میں آج کل ریفارم کی
‹ Previous page Next page › Contents of January 2003 All issues