Al-Risala · July 2003 · page

۷ اپریل ۲۰۰۳

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳

لڑے اور 1897ء میں انگریز کی گولی کا شکار بن گئے۔ اس کے بعد سید احمد بریلوی، جمال الدین افغانی، سید قطب، یاسر عرفات، جیسے بہت سے لوگ اسی قسم کی بے فائدہ قربانی کی مثالیں ہیں۔ اس طرح کے معاملہ میں پوری مسلم قوم اتنا زیادہ جذباتی ہو گئی ہے کہ اب کسی لیڈر کے لیے اس کے سوا کوئی دوسری صورت ممکن نہیں رہی کہ وہ بطور خود عزیمت سمجھ کر اپنی جان دے دے۔ کیوں کہ اگر وہ ایسا کرے تو وہ مسلمانوں میں بزدل شمار ہوگا اور اچانک مسلمانوں کے اندر اپنی مقبولیت کھودے گا۔ صدام حسین اس غلط روایت کو توڑ سکتے تھے۔ اگر وہ ایسا کرتے کہ اقتدار سے ہٹ کر کسی دوسرے ملک میں جا کر مقیم ہو جاتے اور وہاں ایک انٹرنیشنل یونیورسٹی قائم کرتے تو یہ امت کے لیے اُن کا ایک عظیم کارنامہ ہوتا۔ صرف اس اعتبار سے نہیں کہ انہوں نے مسلمانوں کو ایک یونیورسٹی دی بلکہ اس اعتبار سے بھی کہ انہوں نے اس تباہ کن روایت کو توڑ کر نئی صحت مند روایت قائم کی جس کے مطابق، لوگ خواہ مخواہ اپنے آپ کو ہلاک کر رہے ہیں اور عزیمت کا غلط نمونہ قائم کر رہے ہیں۔ اسلام کے مطابق، حقیقی عزیمت یہ ہے کہ آدمی غیر نزاعی طریقہ اختیار کر کے اپنے آپ کو بچائے اور اپنی قوتوں کو تعمیر واستحکام کے عمل میں لگا دے۔

۷ اپریل ۲۰۰۳

آج کل عراقی جنگ کے بارہ میں تعلیم یافتہ مسلمانوں کے مضامین کثرت سے مسلم اخباروں اور مسلم جرائد میں آرہے ہیں۔ ان مضامین میں تقریباً مشترک طور پر یہ ہورہا ہے کہ یہ لوگ ڈکشنری کے تمام الفاظ امریکا کی مذمت میں استعمال کر رہے ہیں۔ ہر ایک امریکا کے بارہ میں یہ ثابت کرنے میں مشغول ہے کہ اُس کی پالیسی دوہرا معیار پر مشتمل ہے۔ امریکانے خود تو ہتھیاروں کا ذخیرہ اپنے ملک میں اکٹھا کر رکھا ہے اور عراق سے مطالبہ کرتا ہے کہ تم اپنے ہتھیاروں کو ختم کر دو۔ وہ خود تو ظالمانہ پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے اور عراقی عوام سے مانگ کرتا ہے کہ تم اپنے یہاں سے ظالم حکمراں کو ہٹاؤ۔ وہ خود تو عراق اور دوسرے مسلم ملکوں کے خلاف تشدد کی کارروائی کرتا ہے اور دوسروں سے کہتا ہے کہ وہ امریکا کے اداروں پر متشددانہ حملے نہ کریں۔ مسلم میڈیا آج کل اس قسم کے مضامین سے بھرا ہوا نظر آتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues

Printed page