Al-Risala · July 2003 · page

۸ اپریل ۲۰۰۳

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳

مگر یہ ایسا گناہ ہے کہ در شہر شما نیز کنند کا معاملہ ہے۔ میرے تجربہ کے مطابق، امریکا کی بے تکان مذمت کرنے والے ان مسلمانوں کا اپنا حال یہ ہے کہ اُن میں سے جس کے بھی بس میں ہے وہ اپنے بیٹے اور بیٹی اور اپنے رشتہ داروں کو امریکا میں سٹل کیے ہوئے ہے۔ یہ لوگ جس دوہرے معیار کا الزام امریکا کو دے رہے ہیں اُسی دوہرے معیار میں وہ خود مبتلا ہیں۔ ان لوگوں کو چاہئے کہ وہ اس مسئلہ میں یا چپ رہیں یا اُصول پسندی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے اپنے عزیزوں کو امریکا سے واپس بلا لیں۔

جو لوگ امریکا یا غیر امریکا کو دشمن قرار دے کر اُن کے خلاف اس قسم کے الفاظ بکھیر رہے ہیں اُن کے اوپر قرآن کے یہ الفاظ صادق آتے ہیں کہ: ہم العدو فاحذرھم (المنافقون ۴) یعنی وہ خود دشمن ہیں، تم اُن سے بچو۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسری قوموں کو عدو قرار دے کر مسلمانوں کے اندر اُن کے خلاف نفرت اور عداوت کی نفسیات پیدا کرنا اسلام کے منصوبہ کے سراسر خلاف ہے۔ مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے عدو کے ساتھ بھی بہتر سلوک کریں، وہ اپنے عدو کو بھی اپنا دوست بنانے کی کوشش کریں۔ (حم السجدہ ۳۴)

قرآن کے اس بیان کے مطابق، یہ خود سب سے بڑی اسلام دشمنی ہے کہ ایسی باتیں کی جائیں جن سے مسلمانوں کے اندر دوسری قوموں کے خلاف نفرت اور عداوت کے جذبات بھڑک اُٹھیں۔ اور پھر اس کا نتیجہ یہ ہو کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان اتنی تلخی بڑھے کہ دعوتی عمل کے امکانات ختم ہو جائیں۔ جب کہ دعوتی عمل ہی اسلام کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

۸ اپریل ۲۰۰۳

عراق کی جنگ میں پہلے امریکی فوج فضائی بمباری کر رہی تھی۔ اُس وقت جنگ کا معاملہ یک طرفہ تھا۔ امریکی مارنے والے تھے اور عراقی مرنے والے۔ لیکن صرف فضائی بمباری سے جنگ کا فیصلہ نہیں ہوسکتا تھا۔ چنانچہ امریکا اور برطانیہ کی فوج زمین پر اُتر گئی اور عراق کے شہروں میں زمینی راستہ سے گھسنا شروع کیا۔ اب لڑائی دو طرفہ ہوگئی۔ رپورٹ کے مطابق، دونوں طرف کے ہزاروں فوجی مارے جا چکے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues

Printed page