Al-Risala · July 2003 · page

۹ اپریل ۲۰۰۳

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳

میں نے وائس آف امریکا (ریڈیو) پر امریکا کے صدر جارج بش کی تقریر سنی۔ انہوں نے پرجوش طور پر کہا کہ صدام ختم ہوگیا (Saddam is finished)۔ مگر عراق کی جنگ میں صدام حسین کی حیثیت صرف ایک علامت کی ہے۔ درحقیقت اس جنگ میں ساری دنیا کے مسلمان براہ راست طور پر یا بالواسطہ طور پر شامل تھے۔ موجودہ صورت حال کے مطابق، تمام دنیا کے مسلمان اس احساس میں جی رہے ہیں کہ امریکا اور دوسری قومیں مسلم دشمن یا اسلام دشمن بن چکی ہیں۔ وہ ہمارا وجود مٹادینا چاہتی ہیں۔ ایسے حالات میں اصل مسئلہ جنگ کا نہیں ہے بلکہ مذکورہ قسم کی منفی سوچ کا ہے۔ جب تک یہ سوچ نہ بدلے جنگ وتشدد کسی نہ کسی صورت میں جاری رہے گا، خواہ صدام حسین زندہ ہوں یا زندہ نہ ہوں۔ میں ذاتی طور پر اس نظریہ کو بے بنیاد سمجھتا ہوں کہ امریکا یا دوسری قومیں اسلام دشمن ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پیدائشی طور پر ہر آدمی اسلام دوست ہے۔ یہ مسلمانوں کی غیر حقیقی سوچ ہے جس کی بنا پر دوسرے لوگ اُن کو منفی صورت میں دکھائی دیتے ہیں۔

۹ اپریل ۲۰۰۳

آج کل دنیا بھر کا مسلم پریس ایک ہی بولی بول رہا ہے، اور وہ ہے مذمت کی بولی۔ میرے علم کے مطابق، کوئی بھی مسلم اخبار یا جریدہ ایسا نہیں جو ایسی بات لکھے جس میں مسلمانوں کو حوصلہ ملتا ہو۔ مثال کے طور پر ایک مسلم ہفت روزہ نے عراق کی جنگ پر ایک مضمون شائع کیا ہے جس کا عنوان یہ ہے ــ عراق کی آزادی کا آپریشن یا انسانیت کو غلام بنانے کی مہم :

Operation Iraqi freedom or Enslaving Mankind?

اس مضمون میں بار بار اس قسم کی بات کہی گئی ہے کہ یہ ایک غیر منصفانہ جنگ ہے جس کو بے شرمی کے ساتھ ایک کمزور قوم کے اوپر مسلط کر دیا گیا ہے۔ یہ امریکن کولونیلزم (American colonialism) ہے، یہ امریکی امپیریلزم (American Imperialism) ہے۔ آئیے ہم ظالم امریکا کی مخالفت کریں اور مظلوم عراق کی حمایت کریں :

Let us oppose the oppressor and support the oppressed Iraqies

‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues

Printed page