Al-Risala · July 2003 · page

Operation Iraqi freedom or Enslaving Mankind?

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳

مگر قرآنی نقطۂ نظر سے اصل سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ مسلمانوں کے لیے ایک شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment) ہے۔ موجودہ زمانہ کی مسلم نسلوں میں تقریباً دوسوسال سے سخت جمود (stagnation) آ گیا تھا۔ خدا کے قانون کے مطابق، یہ ان کے لیے ایک تازیانہ ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کا تقلیدی خول ٹوٹے، اُن کے ذہن کی کھڑکیاں کھلیں، اُن کے اندر احتسابِ خویش کا جذبہ جاگے۔ وہ نئے زمانہ کی حقیقتوں کو سمجھیں اور دورِ جدید میں اپنا مقام متعین کرنے کی ازسرِ نو منصوبہ بندی کریں۔

خدا کا یہ قانون ایک عالمی اور عمومی قانون ہے۔ لیکن مسلمانوں کے لیے وہ دُگنا اہمیت کا حامل ہے۔ مسلمان آخری نبی کی امت ہیں۔ اپنے اس منصب کی ذمہ داری سے وہ آخری حد تک غافل ہو گئے تھے۔ اب وقت آ گیا تھا کہ اُنہیں جھنجھوڑ کر جگایا جائے۔ اُن کے بے روح ڈھانچہ میں دوبارہ اسلام کی زندہ روح ڈال دی جائے۔ مسلمانوں کے موجودہ تاریک حال میں مجھے اُن کے روشن مستقبل کی تصویر دکھائی دیتی ہے۔

آج صبح کو حسبِ معمول میں بی بی سی ورلڈ سروس پر خبریں سن رہا تھا۔ خبروں میں بتایا گیا کہ عراق کی راجدھانی بغداد امریکی فوجوں نے قبضہ کر لیا اور صدام حسین کی ۲۴ سالہ حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ ریڈیو پر بار بار اس قسم کے الفاظ سنائی دے رہے تھے:

Saddam is gone. Rule of Saddam is over. The regime of Saddam is no more. The power of Saddam is wrecked forever. Saddam's authority is collapsed. خبروں میں بتایا گیا کہ بغداد کے مرکز میں واقع صدام حسین کا دیو پیکر ااسٹیچو ٹینک سے توڑ کر گرا دیا گیا۔ یہ دیو پیکر سٹیچو ۲۰ فٹ اونچا تھا اور اُس کو ۲۰۰۱ میں الفردوس اسکوائر میں نصب کیا گیا تھا۔ اس قسم کی مختلف خبریں مسلسل آ رہی تھیں۔ خبروں کے درمیان اناؤنسر نے کہا: The whole Muslim world has plunged into despair.

‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues

Printed page