Al-Risala · July 2003 · page

Operation Iraqi freedom or Enslaving Mankind?

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳

اس وقت میں اپنے مطالعہ کے کمرہ میں تنہا کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ یہ الفاظ سنتے ہی بے اختیار میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میں نے روتے ہوئے کہا کہ کیا خدا اب مسلمانوں کا مددگارنہیں۔ کیا خدا نے موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو رد کر دیا ہے۔ میں سوچتا رہا، یہاں تک کہ میری سمجھ میں آیا کہ یہ مسلمانوں کو رد کرنے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس بے فائدہ طریقِ کار کو رد کرنے کا معاملہ ہے جو پچھلے دو سو سال سے مسلمان اپنے قائدین کی رہنمائی میں اختیار کیے ہوئے تھے۔ موجودہ زمانہ میں جب دوسری قوموں کے مقابلہ میں مسلمانوں کے لیے مغلوبیت کا مسئلہ پیدا ہوا تو قائدین نے اس کا مقابلہ کرنے کے لیے جو طریقہ تجویز کیا وہ یہ تھا کہ مسلمان پولیٹیکل اسلام اور ملیٹنٹ جہاد کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں۔ یہ نعرہ مسلمانوں کے اندر خوب مقبول ہوا۔ تقریباً ساری دنیا کے مسلمانوں نے اُسے اختیار کر لیا۔ کسی نے قولی طور پر اور کسی نے عملی طور پر۔ اس پولیٹیکل اسلام اور ملیٹنٹ جہاد میں دنیا بھر کے مسلمانوں نے جو جان و مال کی قربانیاں دی ہیں وہ پوری تاریخ کی تمام مسلم قربانیوں سے بھی زیادہ ہیں۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ یہ تمام قربانیاں حبطِ اعمال کا شکار ہوگئیں۔ اُن کا کوئی بھی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ عراق کا حادثہ جس میں تمام دنیا کے مسلمانوں کے جذبات شامل ہو گئے تھے اس معاملہ کی آخری کڑی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ خدا نے مسلمانوں کو رد نہیں کیا البتہ اُس متشددانہ طریقِ کار کو مکمل طور پر رد کر دیا ہے جو انقلابی اسلام اور مسلح جہاد کی صورت میں مسلمانوں نے ساری دنیا میں جاری کر رکھا تھا۔ اب مسلمانوں کے لیے کامیابی کا صرف ایک ہی راستہ ہے۔ وہ پولیٹیکل ایکٹوزم اور وائلنٹ ایکٹوزم کو مکمل طور پر چھوڑ دیں اور امن کے دائرہ میں رہتے ہوئے دعوہ ایکٹوزم کو اختیار کر لیں۔ عراق کا حادثہ اُن کو یہی ربانی پیغام دے رہا ہے۔

نئی دہلی کے انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمز (۱۱ اپریل ۲۰۰۳) میں ڈاکٹر کرن سنگھ کا ایک مضمون چھپا ہے۔ اس میں وہ عراق کی جنگ کا تذکرہ کرتے ہوئے آخر میں لکھتے ہیں کہ امریکی سینیٹ

‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues

Printed page