Al-Risala · July 2003 · page

Operation Iraqi freedom or Enslaving Mankind?

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳

کے ممبر رابرٹ بائرڈ نے سینٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ملک کے لیے روتے ہیں۔ عراقی بھی یقیناً اپنی مصیبت پر رو رہے ہیں۔ بقیہ دنیا عراق اور امریکا دونوں پر رو رہی ہے۔ Senator Robert Byrd said in his speech in the US Senate that he weeps for his country. The Iraqis of course are weeping in agony. The rest of the world, is weeping both for Iraq and for the U.S. (p. 10)

میرے نزدیک عراق کی جنگ کا معاملہ رونے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ وہ تجزیہ کرنے کا معاملہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ غیر معمولی جنگ سادہ طور پر صرف ایک جنگ نہیں تھی بلکہ وہ ایک عالمی امتحان تھا جس میں تمام قومیں فیل ہوگئیں۔ امریکا اور برطانیہ کا کیس یہ ہے کہ انہوں نے نعمت کا بھر پور استعمال کیا مگر انہوں نے منعم کا اعتراف نہیں کیا۔ خدا کی نعمتوں کا اعتراف کیا جائے تو اُس سے تواضع (modesty) پیدا ہوگی اور اگر خدا کی نعمتوں کا اعتراف نہ کیا جائے تو اُس سے گھمنڈ اور سرکشی پیدا ہوتی ہے۔ یہی صورت امریکا اور اُس کے حلیفوں کے ساتھ پیش آئی۔ انہوں نے اپنی سرکشی کو عراق کے اوپر انڈیل دیا۔ دوسری طرف عراق کا معاملہ یہ ہے کہ اُس کی زمین کے نیچے تیل کے قیمتی ذخائر موجود ہیں۔ صدر صدام حسین اس قیمتی دولت کے ذریعہ بہت بڑے بڑے تعمیری کام کر سکتے تھے۔ مگر انہوں نے اس دولت کا بہت بڑا حصہ ہتھیار اکٹھا کرنے میں لگا دیا۔ یہاں تک کہ عراق دنیا کی چوتھی سب سے بڑی فوجی طاقت بن گیا۔ اس کے بعد صدام حسین نے مزید یہ کیا کہ وہ ہر ایک کے خلاف دھمکی کی زبان استعمال کرنے لگے۔ وہ جنگجوؤں کے سر پرست بن گئے۔ اسی کا رد عمل تھا جو امریکی حملہ کی صورت میں اُن کے اوپر ٹوٹ پڑا۔

تیسری طرف بقیہ ملکوں کا معاملہ ہے ۔ ان میں سے کسی بھی ملک نے اس معاملہ میں اصول پسندی کا ثبوت نہیں دیا۔ کسی کا مفاد امریکا سے وابستہ تھا تو وہ امریکا کے ساتھ متحد ہو گیا۔ کسی کا مفاد عراق کے تیل سے جڑا ہوا تھا تو وہ عراق کا حامی بن گیا۔ دنیا کے 191 ملکوں میں سے شاید کوئی بھی ملک ایسا نہ تھا جو اس معاملہ میں با اصول سیاست کا ثبوت دے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues

Printed page