Operation Iraqi freedom or Enslaving Mankind?
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳
لاہور کے اُردو روز نامہ نوائے وقت کا شمارہ ۳ اپریل ۲۰۰۳ مجھے آج کی ڈاک سے ملا۔ اس کے پہلے صفحہ پر ’’ملین مارچ‘‘ (کوئٹہ) کی رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ یہ ملین مارچ پاکستان کے متحدہ مجلس عمل کے زیر انتظام کیا گیا تھا۔ اخبار میں اس کی تفصیلی رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ اس کا عنوان یہ ہے: جہاد فرض ہو گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس موقع پر مولا نا فضل الرحمن، مولانا شاہ احمد نورانی، قاضی حسین احمد، پروفیسر ساجد میر، مولانا سمیع الحق، علامہ ساجد نقوی، حافظ حسین احمد، وغیرہ نے تقریر کی۔ اس جلسہ میں پاکستانی رہنماؤں نے جو تقریریں کیں اُن کا خلاصہ اخباری رپورٹ کے مطابق، یہ تھا کہ امریکا نے نہتے عراقی عوام پر شدید گولہ باری کر رکھی ہے۔ امریکا ایک ایک کر کے تمام اسلامی ممالک کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ امریکا اور برطانیہ مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیل رہے ہیں۔ امریکا اور اُس کے حواریوں کے خلاف تمام مسلمانوں پر جہاد فرض ہو گیا ہے (صفحہ ۶) مذکورہ اقتباس میں جو بات کہی گئی وہ ایک ادھوری بات ہے۔ ’’تمام دنیا کے مسلمانوں‘‘ پر اگر جہاد فرض ہو گیا ہو تو ایسا نہیں ہوگا کہ دوسرے مسلمانوں پر تو جہاد فرض ہو اور مقررین پر جہاد فرض نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ جب یہ کہا جائے کہ جہاد فرض ہو گیا ہے تو اس میں اپنے آپ ایک اور چیز شامل ہو جاتی ہے۔ وہ یہ کہ اب میدان جہاد سے باہر رہ کر تقریر کرنا حرام ہو گیا ہے۔ جب جہاد فرض ہو جائے تو سب کچھ چھوڑ کر میدان جہاد کی طرف بھاگنا چاہئے، نہ کہ میدان جہاد سے الگ رہ کر لفظی تقریر کرنا۔ اسی طرح کی صورت حال میں شاعر نے کہا تھا:
گئے وہ دن کہ تھی مقبول اک دنبے کی قربانی متاعِ جاں اب ادنیٰ ہدیہ ہے سرکارِ جاناں کا جیسا کہ معلوم ہے، عراق کی جنگ قدیم انداز کی جنگ نہیں ہے۔ یہ میڈیا کے دور کی جنگ ہے۔ آج ہر مسلمان اپنے گھر میں ٹی وی کے سیٹ پر نہ صرف جنگ کی خبریں سُن رہا ہے بلکہ وہ جنگ کے مناظر دیکھ رہا ہے۔ ایسی حالت میں عمومی جہاد کے لیے نہ کسی مارچ کی ضرورت ہے اور نہ کسی تقریر
‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues