Al-Risala · July 2003 · page

۱۳ اپریل ۲۰۰۳

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳

کی۔ اگر واقعتاً یہ اسلامی جہاد کا مسئلہ ہو تو ہر مسلمان کو اُسی طرح میدانِ کارزار کی طرف بھاگنا چاہئے جس طرح کوئی باپ اپنے بیٹے پر حملہ ہوتا ہوا دیکھے اور اُس کو بچانے کے لیے فوراً بھاگ کھڑا ہو۔ ایسا باپ اپنے بیٹے کی مدد پر دوڑنے کے لیے کسی تقریر کا انتظار نہیں کرے گا۔ اسی طرح اگر یہ اسلامی جہاد کا مسئلہ ہو تو مقررین سمیت تمام مسلمانوں کو اپنے آپ میدانِ جہاد کی طرف دوڑ پڑنا چاہئے۔ مگر ایسا نہیں ہو رہا ہے۔ کیوں کہ اس معاملہ میں نہ مقررین سنجیدہ ہیں اور نہ سامعین۔

۱۳ اپریل ۲۰۰۳

قرآن کی سورہ نمبر ۲۷ میں حضرت سلیمان اور ملکۂ سبا کا قصہ بیان ہوا ہے۔ حضرت سلیمان کو اللہ تعالیٰ نے عظیم سلطنت عطا فرمائی تھی۔ اُنہوں نے ملکۂ سبا (یمن) سے مطالبہ کیا کہ تم ہماری سیاسی اطاعت (النمل ۳۱) قبول کرو۔ اس موقع پر ملکۂ سبا کے درباریوں نے کہا کہ ہم اطاعت قبول نہیں کریں گے بلکہ ہم لڑیں گے۔ ملکۂ سبا نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے اپنے درباریوں سے کہا کہ: بادشاہ لوگ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو وہ اُس میں فساد کرتے ہیں اور اس کے عزت والوں کو ذلیل کر دیتے ہیں۔ اور یہی یہ لوگ کریں گے۔ (۳۴)

قرآن میں ملکۂ سبا کا یہ قول تردید کے بغیر نقل کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن ملکۂ سبا کی روش کی تصدیق کر رہا ہے۔ اس قرآنی آیت کو عراق کے صدر صدام حسین پر منطبق کیا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ صدام حسین کو امریکی صدر کے مطالبہ کو ماننے کا راستہ اختیار کرنا چاہئے تھا، نہ کہ وہ مطالبہ کو ٹھکرا کر ٹکراؤ کا راستہ اختیار کریں۔ صدام حسین نے امریکا کے مقابلہ میں جو راستہ اختیار کیا وہ بہادری کا راستہ نہیں تھا بلکہ بے دانشى کا راستہ تھا۔ اور تاریخ بتاتی ہے کہ بہادری کے نام پر بے دانشی کا طریقہ اختیار کرنا ہمیشہ بدترین بزدلی پر ختم ہوتا ہے۔ یہی صدام حسین کے ساتھ پیش آیا۔ آغاز میں وہ بہادری کے نام پر لڑنے کی باتیں کرتے تھے مگر جب امریکا نے صدام حسین کے محلوں اور بنکروں پر شدید بمباری کی تو وہ بزدل کی طرح روپوش ہو کر بھاگ گئے۔

اصل یہ ہے کہ اس طرح کے معاملات میں ناقابلِ عمل اُصول کا حوالہ دینے کے بجائے

‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues

Printed page