۱۳ اپریل ۲۰۰۳
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳
حقیقی نتیجہ کو دیکھنا چاہئے۔ اس اعتبار سے یہاں صدام حسین کے لیے یہ ایک کم تر برائی (lesser evil) تھی کہ وہ شخصی اقتدار کو چھوڑ کر ملک کو تباہی سے بچالیں ۔ مگر بدقسمتی سے انہوں نے زیادہ بڑی برائی (greater evil) کا طریقہ اختیار کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خود بھی تباہ ہوئے اور ملک بھی تباہ ہوگیا۔ ۱۴ اپریل ۲۰۰۳ امریکی فوج کے مسلسل حملہ کے نتیجہ میں بغداد کا انتظامیہ درہم برہم ہوگیا۔ صدام حسین اور ان کے ساتھی شہر چھوڑ کر بھاگ گئے۔ پولیس کا پورا نظام ختم ہو گیا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ شہر میں زبردست لوٹ مار شروع ہوگئی۔ بغداد کے جن محلوں اور بڑی بڑی عمارتوں کو لوٹ لیا گیا اُن میں سے ایک بغداد کا نیشنل میوزیَم تھا۔ اس میوزیَم میں انمول قسم کے تاریخی نوادر کثیر تعداد میں موجود تھے۔ اس واقعہ کی خبر دیتے ہوئے ٹائمْس آف انڈیا (۱۴ اپریل ۲۰۰۳) نے لکھا ہے کہ سات ہزار سال کے تاریخی نوادرات کو صرف ۴۸ گھنٹہ میں تباہ کردیا گیا:
The National Museum of Iraq recorded a history of civilizations that flourished in Mesopotamia more than 7000 years ago. But it took only 48 hours for it to be destroyed. (p. 1)
میسوپوٹامیا اُس زرخیز علاقہ کو کہا جاتا ہے جو عراق کی دو دریاؤں، دجلہ اور فرات کے درمیان واقع ہے۔ مورخین کے مطابق، پہلی انسانی تہذیب اسی علاقہ میں بنی۔ یہ علاقہ سات ہزار سال سے تہذیبوں کا گہوارہ بنا رہا ہے۔ چنانچہ عراق میں کثرت سے تاریخی یادگاریں ہیں۔ تیل کے بعد عراق کی سب سے بڑی آمدنی سیاحوں کے ذریعہ ہوتی تھی جو ان تاریخی یادگاروں کو دیکھنے کے لیے آتے تھے۔ انہی میں سے ایک بغداد کا نیشنل میوزیَم تھا۔
عملی اقدام کو ہمیشہ نتیجہ رخی (result oriented) ہونا چاہئے ۔ صرف وہی اقدام درست ہے جو مثبت نتیجہ پیدا کرے۔ جو اقدام اپنے عملی نتیجہ کے اعتبار سے تباہ کن یا غیر مفید ہو، وہ موت کی چھلانگ ہے، نہ کہ زندگی کی طرف اقدام ۔ کوئی بھی عذر خواہ بظاہر وہ کتنا ہی خوش نما ہو بے نتیجہ اقدام کو جائز ٹھہرانے کے لیے کافی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues