Al-Risala · January 2003 · page

Don't preach, just teach.

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۳

باتیں ہورہی ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ سوسائٹی میں جو اخلاقی بگاڑ آیا ہے اُس کو اس طرح دور کیا جاسکتا ہے کہ تعلیمی نصاب میں اخلاق کو ایک مستقل مضمون کے طور پر شامل کر دیا جائے۔ میں نے کہا کہ یہ تجربہ تو کیا جا چکا ہے۔ موجودہ تعلیمی نصاب میں بھی اکثر جگہ کسی نہ کسی طور پر اخلاقی چیزیں پڑھائی جاتی ہیں۔ شانتی نکیتن اور گروکل جیسے، بہت سے تعلیمی ادارے تو خاص اسی مقصد کے لیے قائم کیے گئے تھے۔ مگر اُن سے مطلوب اخلاقی نتیجہ حاصل نہ ہوسکا۔

میں نے کہا کہ تعلیم کے دو الگ الگ شعبے ہیں۔ ایک فارمل ایجوکیشن، اور دوسرے انفارمل ایجوکیشن۔ فارمل ایجوکیشن سے مراد اسکول اور کالج کی تعلیم ہے اور انفارمل ایجوکیشن سے مراد اصلاحی کوشش ہے جو رسمی تعلیم کے باہر تعمیر شعور کے لیے کی جائے۔ اخلاقی شخصیت پیدا کرنے کے لیے انفارمل ایجوکیشن مفید ہے، نہ کہ صرف فارمل ایجوکیشن۔

اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ فارمل ایجوکیشن میں سارا زور نمبر پر ہوتا ہے۔ طالب علم کی آخری کوشش صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ امتحان کے موقع پر کسی نہ کسی طرح زیادہ نمبر لائے تا کہ وہ امتحانی اصطلاح میں کامیاب ہوسکے۔

بہائی مذہب کے ایک صاحب بھی یہاں آئے تھے۔ اُنہوں نے "یونیورسل مذہب" کے موضوع پر اپنی مختصر تقریر کی۔ اُنہوں نے آٹھ صفحہ کا ایک پمفلٹ (اپریل ۲۰۰۲) تقسیم کیا۔ یہ بہائی عالمی مرکز کے بیت العدل اعظم کی طرف سے تیار کیا گیا تھا۔ یہ پمفلٹ عمدہ کاغذ پر نہایت عمدہ چھپا ہوا تھا مگر پورا پڑھنے کے باوجود اُس کا کوئی خلاصہ میری سمجھ میں نہ آسکا۔ اُس کا ایک اقتباس یہ تھا: "۱۸۹۳ء میں مشہور عالمی کولمبیائی اجلاس (شکاگو) نے "مذہبی پارلیمنٹ" کو وجود میں لاکر سب کو حیران کر دیا۔ روحانی اور اخلاقی اشتراک کی اس استصواب رائے نے تمام براعظموں کی توجہ مبذول کرائی اور اُس نے سبھی سائنسی، تکنیکی اور تجارتی کامیابیوں سے زیادہ شہرت حاصل کی۔ تھوڑے عرصہ کے لیے لگا کہ پابندیوں اور قدامت پرستی کی دیواریں گرگئیں۔ مؤثر مفکرین کے لیے بھی یہ اشتراک انوکھا اور تاریخ عالم میں اہمیت کا حامل تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2003 All issues

Printed page