Al-Risala · July 2003 · page

Job done in Iraq.

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳

کل تک اخباروں کی پہلی سرخی عراق سے متعلق ہوتی تھی۔ آج عراق سرخیوں کی فہرست میں نمبر دو پر چلا گیا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا (۱۵ اپریل ۲۰۰۳) کے پہلے صفحہ کی دوسری سرخی یہ ہے کہ عراق میں امریکا کا سیاسی مقصد حاصل ہو گیا:

Job done in Iraq.

۱۸ مارچ کو امریکا کی قیادت میں اتحادیوں (US-led coalition) نے عراق پر حملہ شروع کیا تو ساری دنیا کے مسلمان زبردست خوش فہمی میں مبتلا تھے۔ ہر طرف یہ کہا جا رہا تھا کہ عراق کا صحرا امریکیوں کا قبرستان بنے گا۔ مسلمان اس بھرم میں تھے کہ صدر صدام حسین نے گھر گھر ہتھیار بانٹ دیے ہیں۔ چالیس دن کے لیے کھانے پینے کا سامان گھروں میں بھر دیا ہے۔ امریکی فوجیں جب بغداد میں داخل ہوں گی تو شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں ہر طرف امریکیوں کی لاش نظر آئے گی۔ مگر عملاً جو کچھ ہوا وہ اس کے برعکس تھا۔ امریکا اور برطانیہ کی فوجوں نے بہت کم وقت میں اور کسی بڑی مزاحمت کے بغیر عراق پر قبضہ کر لیا۔

اصل یہ ہے کہ صدام حسین کے ۲۴ سالہ زمانہ حکومت میں تیل کی بے پناہ دولت عراق کو حاصل ہوئی۔ مگر اس کا زیادہ حصہ یا تو صدام حسین اور اُن کے قریبی لوگوں کے قبضہ میں چلا گیا یا فوجی مدوں میں خرچ ہوا۔ عوام کی بڑی اکثریت مفلس بنی رہی۔ عراق میں کچھ لوگ تو بہت امیر تھے اور زیادہ لوگ بے حد غریب۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عراقیوں کی اکثریت کے اندر قومی جذبہ ہی پورے طور پر پیدا نہ ہو سکا۔

جب امریکا اور برطانیہ کی فوجیں بغداد میں داخل ہوئیں تو یہاں کی غریب عوام جو پہلے ہی سے عراقی حکومت سے بیزار تھے، انہوں نے یہاں کے امیروں کو لوٹنا شروع کر دیا۔ صدام حسین اور اُن کے دولت مند ساتھیوں کے شاندار مکانوں کو لوٹ کر جلا دیا۔ امیروں کے گھروں سے کھانے پینے کا سامان لوٹ لیا گیا۔ نفرت سے بھرے ہوئے عوام نے نہ صرف سرکاری عمارتوں کو لوٹا بلکہ وہ بغداد کے

‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues

Printed page